مارکٹس

پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے بجلی سبسڈی برقرار رہے گی، وزیر توانائی

  • پاور سیکٹر اصلاحات کے نتیجے میں صارفین کو براہِ راست ریلیف ملا، سردار اویس احمد خان لغاری
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے پروٹیکٹڈ صارفین کے لئے بجلی سبسڈی کے خاتمے سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت مستحق صارفین کو ریلیف کی فراہمی کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھے گی۔

پاور سیکٹر اصلاحات پر گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 95 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 15 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس وقت تقریباً 2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار گھریلو صارفین، جو مجموعی صارفین کا 86 فیصد بنتے ہیں، رعایتی نرخوں پر بجلی حاصل کررہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ بجلی سبسڈی کا حجم 199 ارب روپے سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ زرعی اور گھریلو شعبوں کیلئے مجموعی طور پر 527 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اہل صارفین کو کیو آر کوڈ پر مبنی نظام کے تحت بلا تعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رکھی جائے گی۔

اویس لغاری کے مطابق حکومت نے یہ یقینی بنانے کیلئے رجسٹریشن نظام متعارف کرایا کہ سبسڈی صرف مستحق صارفین تک ہی محدود رہے۔

انہوں نے بتایا کہ 20 لاکھ سے زائد سنگل فیز صارفین پہلے ہی رجسٹریشن کا عمل مکمل کرچکے ہیں۔ اویس لغاری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سبسڈی کے خاتمے سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹس حقائق کے منافی ہیں جبکہ بجلی کی قیمتوں میں کمی سے متعلق حکومتی دعوے مکمل طور پر درست ثابت ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کے نتیجے میں 3,500 ارب روپےکی بچت حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے نقصانات میں ایک سال کے دوران 193 ارب روپے کی کمی لائی گئی اور گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جینکوزکی اضافی مشینری کی فروخت سے 47 ارب روپے کی بچت ہوئی ۔اویس لغاری کے مطابق جاری اصلاحات کے باعث بجلی کی پیداوار اور ترسیل کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ توانائی شعبے میں ان اصلاحات کے مثبت نتائج بتدریج واضح ہوتے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاور سیکٹر اصلاحات کے نتیجے میں صارفین کو براہِ راست ریلیف ملا ہے، بجٹ میں سبسڈی کی مد میں کمی سے قومی خزانے پر دباؤ کم ہوا ہے جبکہ صنعتی صارفین پر کراس سبسڈی کا بوجھ بھی گھٹایا گیا ہے۔

ٹیرف میں کمی کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ مارچ 2024 سے مئی 2026 کے درمیان صارفین کی تمام کیٹیگریزکیلئے بجلی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے ٹیرف میں 31 فیصد کمی ہوئی جبکہ گھریلو صارفین کو قیمتوں میں 16 فیصد کمی کا فائدہ پہنچا ۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے کیلئے بجلی کے نرخوں میں 33 فیصد، تجارتی صارفین کیلئے 8 فیصد جبکہ زرعی صارفین کیلئے 14 فیصد کمی کی گئی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے صارفین کیلئے بجلی کی قیمتوں میں 45 فیصد تک کمی آئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلک صارفین کے ٹیرف میں 13 فیصد کمی کی گئی جبکہ ملک بھر میں بجلی کے اوسط ٹیرف میں 20 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ وفاقی وزیر کے مطابق ان نمایاں کمیوں کی بنیادی وجہ حکومتی اصلاحات اور ملکی توانائی کے وسائل پر بڑھتا ہوا انحصار ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاور سیکٹر کی 2025 میں پیدا ہونے والی 55 فیصد بجلی کلین انرجی پر مشتمل تھی جبکہ 2035 تک اس تناسب کو 90 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی عرصے کے دوران مقامی وسائل سے بجلی کی پیداوار 74 فیصد سے بڑھ کر 96 فیصد ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس وقت پاکستان کے انرجی مکس میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 57 فیصد ہے۔

علاقائی رجحانات کا موازنہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت میں قابلِ تجدید توانائی کا تناسب تقریباً 48 فیصد ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت سولر انرجی کو اپنانے کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہی بلکہ نظام میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات متعارف کروا رہی ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ نیشنل انرجی پلان میں 8 گیگا واٹ کی ڈسٹری بیوٹڈ سولر انرجی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں متعارف کروائی گئی نیٹ بلنگ پالیسی سے 90 فیصد گھریلو صارفین متاثر نہیں ہوں گے اور سنگل فیز رہائشی سولر صارفین کے لیے کوئی بڑی تبدیلیاں نہیں کی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر نے گلگت بلتستان اور گوادر میں جاری سولرائزیشن کے منصوبوں کو بھی اجاگر کیا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ قابلِ تجدید توانائی کو زیادہ سے زیادہ اپنانے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 25 کلو واٹیا اس سے کم کے سولر منصوبوں کے لیے لائسنس کی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔

اویس لغاری کے مطابق پاور ڈویژن کی درخواست پر نیپرا نے چھوٹے پیمانے کے سولر منصوبوں کے لیے اضافی سہولیات کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ بلنگ سسٹم کو ڈیجیٹلائز کر کے شفافیت کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ نیٹ میٹرنگ کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ بلنگ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور ایک ایسا متوازن فریم ورک تیار کرنے کے لیے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جو سولر صارفین اور بجلی کے دیگر صارفین دونوں کے مفادات کا تحفظ کرے۔