مئی میں چین کی صنعتی سرگرمیاں سست، طلب میں کمی سے معیشت پر دباؤ بڑھ گیا
- سروے کے مطابق پیداوار کا ذیلی اشاریہ 51.2 رہا، جبکہ نئے آرڈرز کا اشاریہ 49.9 تک گر گیا
چین کی صنعتی سرگرمی مئی میں تقریباً جمود کا شکار رہی جبکہ نئے برآمدی آرڈرز میں کمی اور خام مال کی بڑھتی لاگت نے دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی رفتار سست ہونے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ سرکاری سروے کے مطابق اگرچہ خدمات اور ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں کچھ بہتری دیکھی گئی، تاہم مجموعی معاشی صورتحال اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔
چین کے قومی ادارہ شماریات کے مطابق سرکاری مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس مئی میں 50 رہا، جو اپریل میں 50.3 تھا۔ یہ سطح نمو اور سکڑاؤ کے درمیان حد تصور کی جاتی ہے۔ یہ تین ماہ کی کم ترین سطح بھی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صنعتی شعبے کی رفتار کمزور پڑ رہی ہے۔
سروے کے مطابق پیداوار کا ذیلی اشاریہ 51.2 رہا، جبکہ نئے آرڈرز کا اشاریہ 49.9 تک گر گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسد میں بہتری آئی لیکن طلب کمزور رہی۔ نئی برآمدی آرڈرز میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور یہ اشاریہ اپریل کے 50.3 سے کم ہو کر 48.6 پر آ گیا۔
چائنا لاجسٹکس انفارمیشن سینٹر کے تجزیہ کار وین تاؤ کے مطابق بیرونی طلب میں کمی خاص طور پر صارفین کی اشیا تیار کرنے والے شعبوں کی برآمدات میں نمایاں گراوٹ کے باعث ہوئی۔
ادھر جائیداد کے شعبے کی کمزوری، روزگار کے مسائل اور صارفین کے محتاط اخراجات بھی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے چین اب بھی اپنی صنعتی پیداوار کھپانے کے لیے عالمی طلب پر انحصار کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کے ساتھ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے بھی چینی صنعت کاروں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ خام مال کی قیمتوں کا اشاریہ اگرچہ اپریل کے 63.7 سے کم ہو کر 60.5 پر آیا، تاہم یہ اب بھی بلند سطح پر موجود ہے۔
اس کے باوجود ہائی ٹیک اور آلات سازی کے شعبوں نے بہتر کارکردگی دکھائی، جہاں پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس بالترتیب 52.9 اور 52.1 ریکارڈ کیا گیا۔ خدمات کے شعبے میں بھی بہتری آئی اور نان مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس اپریل کے 49.4 سے بڑھ کر 50.1 ہو گیا، جس کی ایک بڑی وجہ یومِ مئی کی تعطیلات کے دوران سفری اخراجات میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔