کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن کا سپر ٹیکس کے خاتمے کا مطالبہ
- تنخواہ دار طبقے کیلئے سالانہ ٹیکس فری حد بڑھا کر 12 لاکھ روپے کی جائے، بجٹ تجاویز
کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن (کے ٹی بی اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مطالبہ کیا کہ آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں سپر ٹیکس ختم کیا جائے اور تنخواہ دار طبقے کیلئے سالانہ ٹیکس فری حد بڑھا کر 12 لاکھ روپے کی جائے۔
ایف بی آر کو جمع کرائی گئی اپنی بجٹ تجاویز میں کے ٹی بی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ سپر ٹیکس، جو اصل میں سیکشن فور بی کے تحت ایک سال اور مخصوص مقصد کیلئے متعارف کرایا گیا تھا، اب بغیر کسی مدتِ اختتام (سن سیٹ کلاز) کے غیر معینہ اور مستقل بنادیا گیا ہے جسے بار نے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔
کے ٹی بی اے کی بجٹ تجویز میں کہا گیا ہے کہ سپر ٹیکس کا نفاذ کاروبار کی ترقی کیلئے حوصلہ شکنی کا باعث بنتا ہے اور اس کے خاتمے یا نمایاں کمی سے معیشت کو براہ راست فروغ ملے گا۔
اس وقت جب پاکستان غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور مقامی سرمایہ محفوظ رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، کاروباری حلقے مسلسل بلند اور غیر یقینی ٹیکس شرح کو سرمایہ کاری میں رکاوٹ کے طور پر اجاگر کر رہے ہیں۔
کے ٹی بی اے نے اپنی تجاویز میں کہا ہے کہ تنخواہ دار افراد کو ان کی تنخواہ کی آمدن کے مقابلے میں 15 فیصد قابلِ کٹوتی الاؤنس کی اجازت دی جائے، جو وہ آمدن حاصل کرنے کیلئے آمد و رفت اور دیگر ناگزیر اخراجات پر خرچ کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کرایہ کی آمدن پر کٹوتی کی اجازت دی جاتی ہے۔
مزید برآں سالانہ ٹیکس فری آمدنی کی حد جو اس وقت 6 لاکھ روپے مقرر ہے کو دگنا کر کے 12 لاکھ روپے کیا جانا چاہیے تاکہ گزشتہ دو سے تین سالوں کے دوران ہونے والی مہنگائی کا ازالہ ہوسکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026