دنیا

نیتن یاہو کی اسرائیلی فوج کو غزہ کے 70 فیصد علاقے پر قبضہ کرنے کی ہدایت

  • اسرائیل اس وقت اس چھوٹی ساحلی پٹی کے تقریباً 64 فیصد حصے پر مؤثر طور پر کنٹرول رکھتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو  نے غزہ کی 70 فیصد زمین پر قبضہ کرنے  کا حکم دے دیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا ہے کہ انہوں نے فوج کو غزہ کے مزید حصوں پر قبضہ کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے جس کا آغاز ابتدائی طور پر فلسطینی علاقے کے 70 فیصد حصے کو اپنے کنٹرول میں لینے سے ہوگا۔ واضح رہے کہ غزہ کی آبادی پہلے ہی ساحلی پٹی کے ایک نہایت چھوٹے حصے تک محدود کی جا چکی ہے۔

اسرائیل اس وقت اس چھوٹی ساحلی پٹی کے تقریباً 64 فیصد حصے پر مؤثر طور پر کنٹرول رکھتا ہے۔

اکتوبر میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تحت جو نہ تو اسرائیلی حملے روک سکی اور نہ ہی حماس کو غیر مسلح کرا سکی۔ اسرائیلی فوج کو ایک نام نہاد “ییلو لائن” تک پیچھے ہٹنا تھا، جو اسرائیلی کنٹرول کی حد مقرر کرتی تھی۔ فوجی نقشوں پر واضح کی گئی اس لائن کے مطابق غزہ کا تقریباً 53 فیصد حصہ اسرائیل کے کنٹرول میں رہنا تھا جبکہ باقی حصے پر حماس کی حکومت ہونی تھی۔

رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل نے زمینی سطح پر یلو لائن (زرد لکیر) کی نشاندہی کرنے والے کنکریٹ کے بلاکس کو یکطرفہ طور پر حماس کے زیرِ کنٹرول علاقے کے مزید اندر منتقل کر دیا ہے۔ مارچ میں فوج کی جانب سے جاری کردہ نقشوں میں اس سے بھی بڑا ممنوعہ علاقہ دکھایا گیا تھا، جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مجموعی طور پر غزہ کے تقریباً 64 فیصد علاقے کو گھیرے میں لے لیتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے عوامی بیانات میں بارہا اس بات کا اعادہ کیا کہ فوج غزہ کے 60 فیصد سے زائد حصے کو اپنے کنٹرول میں لیے ہوئے ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے کی ایک بستی میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی رہنما نے کہا کہ غزہ کے مزید حصوں پر بھی قبضہ کیا جائے گا۔

نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ ہم پہلے پچاس فیصد پر تھے، پھر ہم 60 پر آ گئے۔ اب میری ہدایت آگے بڑھنے کی ہے لیکن چلیے قدم بہ قدم چلتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سب سے پہلے70 فیصد۔ چلیے اس سے آغاز کرتے ہیں۔ ہم انہیں (حماس کو) ہر طرف سے دبا رہے ہیں۔ باقی بچ جانے والوں سے بھی ہم نمٹ لیں گے۔