یوٹیوب کا اے آئی سے تیار مواد پر "فلیگ" لگانے کا فیصلہ
- اپنی پرانی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اب یوٹیوب خودکار طور پر اے آئی ویڈیوز پر لیبل لگائے گا، تاکہ ناظرین باخبر رہیں اور کرییٹرز اس فیصلے کو چیلنج بھی کر سکیں
گوگل کی ملکیتی کمپنی یوٹیوب نے اعلان کیا ہے کہ وہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد کا خود بخود پتا لگائے گی اور اپنے پلیٹ فارم پر ناظرین کو اس کی نشان دہی (فلیگ) کرے گی۔
یہ اقدام کمپنی کی اس سابقہ پالیسی کو یکسر بدل دیتا ہے جس کے تحت ویڈیو تخلیق کاروں (کریئٹررز) پر انحصار کیا جاتا تھا کہ وہ جنریٹو اے آئی ٹولز کا استعمال کرنے کی صورت میں خود اس کا اعلان کریں۔
یوٹیوب نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ کوئی کرییٹر یہ واضح نہیں بھی کریگا کہ اس نے اے آئی کا استعمال کیا ہے یا نہیں پھر بھی ہمارا سسٹم اے آئی کے استعمال کا پتا لگا لیتا ہے اور جہاں یہ ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی وہاں ہم خود ایک لیبل لگا دیں گے۔
ویڈیو پلیٹ فارم نے جنریٹو اے آئی کے حوالے سے آخری اقدامات 2024 میں اٹھائے تھے، جب اس نے تخلیق کاروں سے درخواست کی تھی کہ اگر انہوں نے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہو تو وہ خود اس مواد کی نشان دہی کریں۔ تب سے لے کر اب تک حقیقت پسندانہ تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی صلاحیت میں زبردست پیش رفت ہو چکی ہے، جس میں گوگل کے 3.1 وی ای او اور ٹک ٹاک کی بنیادی کمپنی بائٹ ڈانس کے جیسے وسیع پیمانے پر دستیاب اے آئی ماڈلز شامل ہیں۔
یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اگر تخلیق کاروں کو لگتا ہے کہ ان کے مواد پر غلط طریقے سے اے آئی کا لیبل لگایا گیا ہے تو وہ اس نئے فلیگ کو چیلنج کرنے کے اہل ہوں گے۔ پلیٹ فارم نے مزید واضح کیا کہ ان فلیگز (لیبلز) کا صارفین کو ویڈیوز تجویز کرنے والے یوٹیوب کے الگورتھم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
حالیہ دنوں میں اے آئی مواد کی خودکار نشان دہی متعارف کرانے والے دیگر پلیٹ فارمز اور سوشل نیٹ ورکس میں میوزک اسٹریمنگ ایپ اسپاٹی فائی بھی شامل ہے۔ آج کل بہت سے آن لائن پلیٹ فارمز اے آئی سے تیار کردہ تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو سے بھرے پڑے ہیں اور جیسے جیسے یہ ٹولز مزید طاقتور ہو رہے ہیں، ان مواد کو انسانوں کی تخلیق کردہ چیزوں سے الگ کرنا اور پہچاننا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔