ایران کی جوابی کارروائی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 3 فیصد بڑھ گئیں
- برینٹ خام تیل کے فیوچرز 3.51 ڈالر یا 3.72 فیصد اضافے کے بعد 97.8 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جمعرات کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اضافہ اُس وقت سامنے آیا جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب امریکی حملے کے جواب میں ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچرز 3.51 ڈالر یا 3.72 فیصد اضافے کے بعد 97.8 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ اگست کے زیادہ فعال معاہدے کی قیمت 3.35 ڈالر اضافے کے ساتھ 95.6 ڈالر فی بیرل رہی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 3.31 ڈالر یا 3.73 فیصد بڑھ کر 91.99 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
اس سے قبل گزشتہ سیشن میں دونوں اہم بینچ مارکس میں 5 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی تھی کیونکہ سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کی توقعات کر رہے تھے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسی جارحیت دوبارہ دہرائی گئی تو ایران کا ردعمل مزید فیصلہ کن ہوگا۔
ادھر ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی فوج نے ایران میں ایک ایسے فوجی مقام پر نئے حملے کیے جو امریکی افواج اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ سمجھا جا رہا تھا۔
دوسری جانب امریکی پٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے مطابق امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے 2.8 ملین بیرل کمی ہوئی، جو مسلسل چھٹا ہفتہ ہے جب ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔