سام سنگ کا ویتنام میں 1.5 ارب ڈالر کی لاگت سے چِپ ٹیسٹنگ پلانٹ لگانے کا منصوبہ
- نئی فیکٹری کی تعمیر ہنوئی سے 60 کلومیٹر شمال میں شروع ہوچکی ہے
سام سنگ الیکٹرانکس نے ویتنام میں ایک سیمی کنڈکٹر ٹیسٹنگ پلانٹ قائم کرنے کے لیے 39 کھرب ڈونگ (1.5 ارب امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے، یہ توسیعی منصوبہ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پیدا ہونے والی عالمی میموری چپس کی قلت کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق نئی فیکٹری کی تعمیر ہنوئی سے 60 کلومیٹر (37 میل) شمال میں ایک انڈسٹریل پارک میں پہلے ہی شروع ہوچکی ہے اور یہاں نومبر 2027 میں کام کا آغاز ہونا طے پایا ہے۔
یہ ویتنام میں سام سنگ کی پہلی چِپ ٹیسٹنگ فیکٹری ہوگی۔ اے آئی کے ڈیٹا سینٹر آپریٹرز کی جانب سے میموری چپس کی زبردست مانگ نے اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور گاڑیوں جیسی صنعتوں کے لیے سپلائی کو شدید متاثر کردیا ہے۔
دستاویز سے معلوم ہوا ہے کہ یہ فیکٹری روایتی (پرانے ماڈل کی) چپس پر توجہ مرکوز کرے گی، اگرچہ یہ چپس مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی سپلائی چین کیلئے اتنی زیادہ اہم نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ان میچور میموری چپس کی بھی شدید قلت ہے کیونکہ بڑے مینوفیکچررز نے اپنی پیداواری صلاحیت کا زیادہ تر حصہ اے آئی چپس بنانے کے لیے وقف کردیا ہے۔
اس نئے پلانٹ میں سالانہ 153.3 ارب گیگا بٹس ڈائنامک رینڈم ایکسیس میموری چپس اور مزید 255.6 ارب گیگا بٹس نینڈ میموری چپس فراہم کرنے کی صلاحیت ہوگی۔