پاکستان کی 15 کھرب روپے کی لیکویڈیٹی پر انحصار کی لت
- 2022 کے بعد سے او ایم اوز میں تیز اور مسلسل اضافہ اس لیے کسی الگ تھلگ مالیاتی رجحان کے طور پر نہیں بلکہ معاشی پالیسی کی مجموعی سمت کے بارے میں بطور ایک انتباہی اشارے کے دیکھا جانا چاہیے
پاکستان کے تازہ ترین مالیاتی اعداد و شمار ایک ایسی گہری کہانی بیان کرتے ہیں جو زیادہ تر سرخیاں بیان نہیں کر پاتیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی خالص اوپن مارکیٹ آپریشنز (او ایم او) انجیکشنز، یعنی کمرشل بینکوں کو فراہم کی جانے والی لیکویڈیٹی، 2016 سے 2019 کے دوران تقریباً صفر یا عارضی منفی سطح سے بڑھ کر وسط 2026 تک تقریباً 14.3 کھرب پاکستانی روپے تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ اپریل کے آغاز میں یہ مختصر طور پر 15.7 کھرب روپے تک جا پہنچی تھیں۔ یہ محض بینکاری کے شعبے کا ایک تکنیکی اعداد و شمار نہیں، بلکہ یہ ملک کے معاشی ڈھانچے میں ایک گہری ساختی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
روایتی طور پر اوپن مارکیٹ آپریشنز ( او ایم اوز) قلیل مدتی ذرائع ہوتے ہیں جنہیں مرکزی بینک بینکاری نظام میں عارضی لیکویڈیٹی اتار چڑھاؤ کو متوازن رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ زیادہ تر معیشتوں میں یہ مداخلتیں وقتی، چکراتی، اور واپس لی جانے کے قابل ہوتی ہیں۔ مگر پاکستان کا معاملہ مختلف ہے۔ یہاں لیکویڈیٹی انجیکشنز مستقل، بڑے پیمانے پر، اور بڑھتے ہوئے حد تک ساختی نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ بینکاری نظام حکومتی مالیاتی ضروریات کو پورا رکھنے کے لیے مرکزی بینک پر انحصار کرتا جا رہا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ سادہ ہے۔ کووڈ-19، تباہ کن سیلابوں، توانائی سبسڈیز، زرِ مبادلہ کے دباؤ اور قرضوں کی ادائیگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے بعد مالیاتی خسارے وسیع ہوتے گئے، جس کے باعث حکومت نے اندرونی قرض گیری کا سہارا زیادہ شدت سے لیا۔ کمرشل بینکوں نے حکومتی سیکیورٹیز کو شوق سے خریدا کیونکہ بلند شرحِ سود کے ماحول میں یہ انہیں زیادہ اور تقریباً خطرے سے پاک منافع فراہم کر رہی تھیں۔ لیکن اس عمل کو جاری رکھنے کے لیے خود بینکوں کو بھی اسٹیٹ بینک سے لیکویڈیٹی سپورٹ درکار ہوئی، جس کے نتیجے میں او ایم اوز میں وہ دھماکہ خیز اضافہ ہوا جسے اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔
ماہرینِ معاشیات اس صورتحال کو ”فِسکل ڈومیننس“ کہتے ہیں، یعنی ایسی حالت جس میں مانیٹری پالیسی ریاست کی مالیاتی ضروریات کے تابع ہو جاتی ہے۔ نظریاتی طور پر ایک خودمختار مرکزی بینک کی بنیادی ذمہ داری مہنگائی پر قابو پانا اور مالیاتی استحکام برقرار رکھنا ہوتی ہے۔ لیکن عملی طور پر، جب حکومت حد سے زیادہ قرض لیتی ہے تو مرکزی بینک ایک ایسے توازن پر مجبور ہو جاتا ہے جہاں افراطِ زر کو کنٹرول کرنے کے بجائے حکومتی مالیاتی بقا کو ترجیح دینا پڑتی ہے۔
یہ صورتحال ایک خطرناک چکر کو جنم دیتی ہے۔ بلند شرحِ سود، جو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مقرر کی جاتی ہے، بیک وقت حکومت پر قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بھی بڑھا دیتی ہے۔ سود کی بڑھتی ہوئی ادائیگیاں مالیاتی خسارے کو مزید وسیع کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت کو بینکوں سے مزید قرض لینا پڑتا ہے، اور یوں مرکزی بینک کی لیکویڈیٹی سپورٹ پر انحصار مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح مالیاتی سختی ( مانیٹری ٹائٹننگ) ایک تضاد کے طور پر اضافی لیکویڈیٹی کی ضرورت کو ہی بڑھا دیتی ہے۔
اس کے اثرات صرف مہنگائی تک محدود نہیں رہتے۔ اس کے سب سے نقصان دہ طویل مدتی نتائج میں سے ایک نجی سرمایہ کاری کا دب جانا ( کراؤڈنگ آؤٹ) ہے۔ بینک فطری طور پر حکومت کو قرض دینے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ حکومتی قرضے کم خطرے کے ساتھ زیادہ منافع اور ریگولیٹری فوائد فراہم کرتے ہیں۔ نتیجتاً کاروباروں، برآمد کنندگان، صنعتکاروں اور نئے کاروباری افراد کو قرض فراہم کرنا نسبتاً کم پُرکشش بن جاتا ہے۔ یوں معیشت بتدریج پیداواری سرمایہ کاری سے ہٹ کر ریاستی مالیاتی ڈھانچے پر مبنی نظام کی طرف منتقل ہونے لگتی ہے۔
معاشی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ ممالک جو طویل عرصے تک فِسکل ڈومیننس کے جال میں پھنسے رہتے ہیں، اکثر سست پیداواری ترقی، دائمی مہنگائی کے خطرات، کمزور کرنسی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان ابھی ہائپر انفلیشن یا مکمل بینکاری بحران سے بہت دور ہے، لیکن موجودہ رجحان بڑھتی ہوئی معاشی کمزوری کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔
اس میں ایک گہری ادارہ جاتی تشویش بھی شامل ہے۔ مرکزی بینک کی لیکویڈیٹی پر مسلسل انحصار مانیٹری پالیسی کی ساکھ کو کمزور کر دیتا ہے۔ اگر مارکیٹیں یہ یقین کرنے لگیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان مالیاتی حالات کو حکومت کے مالیاتی دباؤ کو متاثر کیے بغیر آزادانہ طور پر سخت نہیں کر سکتا، تو مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کرنسی اور طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی پر اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔
یہ بات واضح رہے کہ اوپن مارکیٹ آپریشنز (او ایم اوز) بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں ہیں۔ بحران کے دوران مرکزی بینک کی لیکویڈیٹی سپورٹ مالیاتی نظام کو مستحکم رکھ سکتی ہے اور مارکیٹ میں بے ترتیبی کو روک سکتی ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہنگامی نوعیت کے یہ اقدامات معیشت کے مستقل انتظامی اوزار بن جائیں۔
پاکستان کا بینکاری نظام اب بھی منافع بخش اور فعال ہے، بڑی حد تک اس وجہ سے کہ حکومتی قرض گیری مالیاتی اداروں کے لیے مسلسل نمایاں منافع پیدا کرتی ہے۔ تاہم ایک پائیدار ترقیاتی ماڈل اس بات پر قائم نہیں رہ سکتا کہ بینک مسلسل ریاست کی مالی ضروریات پوری کریں جبکہ پیداواری شعبے سرمایہ کے لیے مشکلات کا شکار رہیں۔
2022 کے بعد سے او ایم اوز میں تیز اور مسلسل اضافہ اس لیے کسی الگ تھلگ مالیاتی رجحان کے طور پر نہیں بلکہ معاشی پالیسی کی مجموعی سمت کے بارے میں ایک انتباہی اشارے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر مالیاتی اصلاحات، محصولات میں مؤثر بہتری اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی بحالی نہ ہو سکی تو پاکستان ایک ایسے معاشی توازن کی طرف بڑھ سکتا ہے جو زیادہ ریاستی انحصار اور کم ترقی پر مبنی ہو۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026