کاروبار اور معیشت

آئندہ بجٹ: ٹیکسٹائل کونسل کا وزیراعظم سے مالی و ساختی اصلاحات کا مطالبہ

  • رپورٹ کے مطابق برآمد کنندگان صرف 3 سے 4 فیصد کے انتہائی کم منافع مارجن پر کام کرتے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے وزیراعظم شہباز شریف سے آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں وسیع مالیاتی اور ساختی اصلاحات متعارف کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ موجودہ ٹیکس اور ریگولیٹری نظام نے برآمدی ترقی کو مالی طور پر نقصان دہ اور غیر پائیدار بنا دیا ہے۔

کونسل کے چیئرمین فواد انور نے وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام کو دی گئی تفصیلی ضمنی رپورٹ میں اعداد و شمار کے ساتھ واضح کیا کہ پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ شدید لیکویڈیٹی بحران کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجوہات زائد ٹیکس، ریفنڈز میں تاخیر اور ریگولیٹری پیچیدگیاں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برآمد کنندگان صرف 3 سے 4 فیصد کے انتہائی کم منافع مارجن پر کام کرتے ہیں، تاہم ٹیکس نظام ان کے منافع کو کم یا بعض صورتوں میں ختم کر دیتا ہے۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ 100 ارب روپے کی برآمدات پر تقریباً 20 ارب روپے فوری طور پر جی ایس ٹی اور ایڈوانس انکم ٹیکس کی صورت میں منہا یا روک لیے جاتے ہیں، جس سے ورکنگ کیپیٹل نمایاں طور پر متاثر ہوتا ہے۔

مزید کہا گیا کہ جی ایس ٹی اور ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر—جو بعض اوقات مہینوں سے برسوں تک جاری رہتی ہے—لیکویڈیٹی بحران کو مزید سنگین بنا دیتی ہے، اور دستیاب سرمایہ 80 ارب روپے سے بھی کم رہ جاتا ہے۔

کونسل نے نشاندہی کی کہ برآمدات بڑھنے کے باوجود کمپنیوں کو فائدہ ہونے کے بجائے مالی دباؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ اضافی ٹیکس اور ریفنڈز کی رکاوٹیں سرمایہ کو روک دیتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں برآمد کنندگان پر مؤثر ٹیکس شرح 113 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، جو خطے کے دیگر ممالک بھارت (35 فیصد)، بنگلہ دیش (28 فیصد) اور ویتنام (20 فیصد) سے کہیں زیادہ ہے۔

اہم مسئلہ 2 فیصد ایڈوانس ٹیکس ہے جو مجموعی ٹرن اوور پر لگایا جاتا ہے، جس سے کم مارجن والے برآمد کنندگان کی آمدن کا بڑا حصہ متاثر ہوتا ہے۔

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے مطابق اس وقت تقریباً 828 ارب روپے برآمد کنندگان کا سرمایہ نظام میں پھنسا ہوا ہے، جس میں 327 ارب روپے کے بقایا ریفنڈز، 200.9 ارب روپے ایڈوانس ٹیکس اور 300 ارب روپے جی ایس ٹی شامل ہیں۔

کونسل نے تجویز دی کہ برآمدات پر یکساں فائنل ٹیکس ریجیم بحال کیا جائے، ریفنڈز 60 دن میں لازمی ادا کیے جائیں، زیر التوا ریفنڈز فوری جاری کیے جائیں، سپر ٹیکس ختم کیا جائے، کارپوریٹ ٹیکس 29 فیصد سے کم کر کے 26 فیصد کیا جائے اور ای او بی آئی شراکت 2 فیصد تک کم کی جائے۔

کونسل نے خبردار کیا کہ اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان کی برآمدی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026