مارکٹس

ایران پر امریکی حملے کے بعد خام تیل کی قیمت میں 2 فیصد اضافہ

  • برینٹ خام تیل کے فیوچرز 1.98 ڈالر یا 2.1 فیصد اضافے کے ساتھ 98.12 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
شائع اپ ڈیٹ

امریکہ کی جانب سے ایران میں فضائی حملوں کے بعد منگل کے روز ایشیائی تجارت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق معاہدہ تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

برینٹ خام تیل کے فیوچرز 1.98 ڈالر یا 2.1 فیصد اضافے کے ساتھ 98.12 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ گزشتہ سیشن میں ان کی قیمت میں 7 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 91.79 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق رات کے دوران ممکنہ امن معاہدے کی امید پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم جنوبی ایران میں امریکی حملوں اور حزب اللہ پر اسرائیلی کارروائیوں کے بعد مارکیٹ میں دوبارہ بے چینی بڑھ گئی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے مذاکرات میں چند دن لگ سکتے ہیں، جس کے بعد فوری جنگ بندی کی امیدیں کمزور پڑ گئی ہیں۔

ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تقریباً تمام غیر ایرانی جہازوں کی آمدورفت مؤثر طور پر روک رکھی ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد حصے کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ اور اعلیٰ مذاکرات کار دوحہ میں قطر کے وزیراعظم کے ساتھ ممکنہ امریکی معاہدے پر بات چیت میں مصروف ہیں۔ دونوں ممالک نے عندیہ دیا ہے کہ جنگ روکنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت ہوئی ہے، جس کے تحت حتمی معاہدے کے لیے 60 دن کی مہلت دی جائے گی۔

جاپانی اخبار نکی کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹا دے گا، جس کے بعد تمام ممالک کے جہاز آزادانہ اور محفوظ طریقے سے گزر سکیں گے۔

دریں اثنا جہاز رانی کے اعدادوشمار سے معلوم ہوا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایل این جی بردار تین جہاز پاکستان، چین اور بھارت کی جانب روانہ ہوئے، جبکہ عراقی خام تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر تقریباً تین ماہ بعد چین روانہ ہوا۔