کاروبار اور معیشت

میکوم گیس کا ایل پی جی اسٹوریج کیلئے آئی پی او لانے پر غور

  • ایران میں جاری جنگ کے باعث پاکستان کا توانائی شعبہ شدید بحران کا سامنا کررہا ہے، رپورٹ
شائع اپ ڈیٹ

ایل پی جی کی مارکیٹنگ اور ڈسٹری بیوشن کمپنی میکوم گیس پرائیویٹ لمیٹڈ ایل پی جی اسٹوریج ٹرمینل کی تعمیر کیلئے 2 کروڑ ڈالر (20 ملین ڈالر) جمع کرنے کی غرض سے اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او لانے پر غور کررہی ہے۔

بلومبرگ کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کامران افضل نے بتایا کہ یہ کمپنی جو مشرقِ وسطیٰ سے ایل پی جی درآمد کرتی ہے اور اسے ملک بھر میں تقسیم (ڈسٹری بیوٹ) کرتی ہے، آئی پی او پر مشاورت کیلئے سرمایہ کار بینک عارف حبیب لمیٹڈ کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کمپنی حاصل شدہ فنڈز سے 3 ہزار ٹن گیس ذخیرہ کرنے کی صلاحیت (اسٹوریج کپیسٹی) تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران میں جاری جنگ کے باعث پاکستان کا توانائی شعبہ شدید بحران کا سامنا کررہا ہے۔

پاکستان تیل اور گیس کی درآمدات کے لیے خلیجی ممالک پر شدید انحصار کرتا ہے جس کے باعث اسے بیلنس آف پیمنٹ میں مسلسل دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ اپریل میں دوبارہ خسارے کا شکار ہوگیا ہے کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس نے سابقہ فوائد (یا بچت) پر پانی پھیر دیا۔

میکوم کے سی ای او کا کہنا تھا کہ ملک میں ایل پی جی کا شعبہ بھی اسی نوعیت کے خلل (ڈسٹربنس) کا سامنا کررہا ہے کیونکہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس ایندھن کی قیمت دگنی ہو چکی ہے۔

کامران افضل نے مزید بتایا کہ جنگ کے اثرات نے ہی میکوم گیس کو اسٹوریج کی سہولتوں میں توسیع کیلئے متحرک کیا ہے جس سے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مناسب ذخائر برقرار رکھنے کیلئے ملک میں اسٹوریج کی موجودہ صلاحیت کو دوگنا سے بھی زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔