گردشی قرضوں میں کمی، آئی ایم ایف نے بجلی سبسڈی کا حجم گھٹا کر جی ڈی پی کے 0.6 فیصد کردیا
- یہ کمی آپریشنل استعداد اور کارکردگی میں جاری بہتری کے باعث ممکن ہوئی
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مالی سال 2026-27 کے لیے بجلی سبسڈی کا حجم جی ڈی پی کے 0.7 فیصد سے کم کرکے 0.6 فیصد کردیا جس کی وجہ گردشی قرضے کے بہاؤ میں کمی ہے۔ یہ کمی آپریشنل استعداد اور کارکردگی میں جاری بہتری کے باعث ممکن ہوئی۔
آئی ایم ایف کے ای ایف ایف کے تیسرے جائزے اورآر ایس ایف کے دوسرے جائزے کے مطابق سال کے دوران بجلی نرخ میں بروقت ترامیم کی بدولت ٹیرف کا مجموعی ڈھانچہ اخراجات کے عین مطابق رہا ہے۔ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر ان ترامیم کا تسلسل برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ سرکولر ڈیٹ کے حجم کو دوبارہ بڑھنے سے روکا جا سکے۔
فروری کے دوران صنعتی صارفین کیلئے ٹیرف میں ایک بڑی کمی کے باوجود صنعتی صارفین کی طرف سے گھریلو صارفین کو دی جانے والی کراس سبسڈی کو ختم کر کے سسٹم کی لاگت کی وصولی کو برقرار رکھا گیا۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز بڑھائے گئے یا نئے نافذ کیے گئے، جن میں بعض پروٹیکٹڈ صارفین بھی شامل ہیں۔
فنڈ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ٹیرف میں مستقبل کی کسی بھی ترمیم میں بجلی کے ٹیرف اسٹرکچر کے ترقی پسندانہ نظام کو برقرار رکھا جانا چاہیے، اور اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی سبسڈی کی اصلاحات میں مزید پیش رفت کی جائے تاکہ غریب اور کمزور صارفین کو بہتر طریقے سے ہدف (ٹارگٹ) کیا جا سکے۔
مالی سال 2027 کے لیے گردشی قرضے کے بہاؤ کا ہدف 300 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو مالی سال 2026 کے مقابلے میں 100 ارب روپے کم ہے اور یہ آپریشنل کارکردگی میں مسلسل بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، غیر آپریشنل گردشی قرضے کے دباؤ بدستور موجود ہیں، جبکہ مالی سال 2025-26 کے سی ڈی اسٹاک میں کمی کے منصوبے کے تحت باقی ماندہ آئی پی پیز کے ساتھ جرمانہ ادائیگیوں کے واجبات کی تاخیر سے نمٹنے کے لیے مزید پیش رفت درکار ہے۔رپورٹ کے مطابق گردشی قرضے کے متوقع کم بہاؤ کے باعث مالی سال 2027 کے لیے بجلی سبسڈی کا ہدف جی ڈی پی کے 0.7 فیصد سے کم کرکے 0.6 فیصد رکھا گیا ہے۔
پاور سبسڈی کے لیے ہدفی بجٹ مختص کرنے سے متعلق آئی ایم ایف کی اسٹاف رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026 میں گردشی قرضے کے اسٹاک میں کمی کے آپریشن کے نفاذ اور آپریشنل استعداد و کارکردگی میں جاری بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی سال 2027 کے بجٹ میں زیادہ سے زیادہ 830 ارب روپے، یا جی ڈی پی کے 0.6 فیصد تک محدود سبسڈی رکھی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق یہ سبسڈی (1) ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے متوقع ٹیرف فرق، (2) فاٹا کے موجودہ اور بقایا جات کی ادائیگیوں، (3) زرعی ٹیوب ویلز، اور (4) گردشی قرضے کے ذخیرے کی ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوگی تاکہ متوقع گردشی قرضے کے بہاؤ کا توازن برقرار رکھا جا سکے، جسے سی ڈی اسٹاک آپریشن کے بعد مزید کم سطح پر رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ڈسکوز کی نجکاری کا عمل بھی متوازی طور پر شروع کیا جارہا ہے جس کی پیشگی شرائط دسمبر 2026 کے اختتامی اسٹرکچرل بینچ مارک کا حصہ ہیں۔ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی تنظیمِ نو کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جبکہ بجلی کی پہلی ہول سیل نیلامیاں 2026 کے وسط میں شروع ہونے کی توقع ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیپرا کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائی گئی اصلاحات، جن کے تحت سولر صارفین کو نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ ماڈل پر منتقل کیا جا رہا ہے، عالمی طریقہ کار سے زیادہ ہم آہنگ ہیں اور اس سے سولر اور گرڈ بجلی کے استعمال میں بہتر توازن پیدا ہوگا۔ تاہم، موجودہ سولر صارفین کو نئے ماڈل سے مستثنیٰ رکھنے کے باعث قلیل مدت میں بجلی گرڈ صارفین سے سولر صارفین کو ایک نمایاں اور غالباً غیر منصفانہ کراس سبسڈی برقرار رہے گی۔
حالیہ برسوں میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ، سولر پینلز کی کم قیمت اور گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کی انتہائی پرکشش شرحوں کے باعث سولر توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا، جو گزشتہ چند برسوں میں بجلی کی کم کھپت اور پاور سیکٹر کے مالی دباؤ کی ایک بڑی وجہ بنا۔
رپورٹ کے مطابق کم آمدن والے صارفین کے لیے موجودہ بجلی سبسڈی نظام کو ایک ہدفی فریم ورک سے تبدیل کرنے کے حوالے سے جنوری 2027 کے اختتام تک کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف نے زور دیا کہ اس منتقلی کے لیے عوام کو تیار کرنے کی غرض سے حکومت مؤثر ملک گیر آگاہی مہم چلائے تاکہ بجلی صارفین کو نئے نظام سے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جا سکیں۔
حکام نے انکشاف کیا ہے کہ کئی آئی پی پیزکے ساتھ تصفیے کا عمل، جن کے ساتھ بڑے پیمانے پر سرکولر ڈیٹ اسٹاک میں کمی کے آپریشن کے تحت بقایا جات پر جرمانے کی ادائیگیاں معاف کی جانی تھیں، تاحال نامکمل ہے۔ اس کے نتیجے میں سرکولر ڈیٹ کا جمع ہونا جاری ہے تاہم حکام نے مزید کہا ہے کہ وہ جون 2026 کے آخر تک تمام آئی پی پیز کے ساتھ انتظامات کو حتمی شکل دے دیں گے، اسی طرح کے الیکٹرک کے ساتھ جاری عدالتی تنازع، جس کی وجہ سے بڑی عدم ادائیگیاں اور بقایا جات پیدا ہوئے ہیں، ستمبر 2026 کے آخر تک حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
حکام نے مزید بتایا کہ بجلی نرخ میں بروقت تبدیلیاں لاگت کی وصولی کے اصولوں کے عین مطابق تھیں جو کہ ترقی پسندانہ نوعیت کا نظام ہے اور اس میں کمزور صارفین کے تحفظ پر توجہ برقرار رکھی گئی ہے۔ اس میں نیپرا کی جانب سے سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس اور ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹس (ایف سی ایز) کے بروقت خودکار نوٹیفیکیشنز کا تسلسل اور جنوری 2027 کے سالانہ ری بیسنگ (نیا اسٹرکچرل بینچ مارک برائے 15 جنوری 2027) کا مکمل نفاذ شامل ہے۔ یہ تمام اقدامات عالمی توانائی کی مارکیٹ میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے تناظر میں جاری رہیں گے۔
آئی ایم ایف کی اسٹاف رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ ان اقدامات سے سرکولر ڈیٹ کے بہاؤ میں نمایاں کمی آئے گی جس سے مالی سال 2027 کے اختتام پر سرکولر ڈیٹ کے مجموعی بہاؤ کا ہدف کم کرکے 300 ارب روپے تک لانے میں مدد ملے گی اور ہم مالی سال 2031 تک سرکولر ڈیٹ کے مجموعی بہاؤ کو صفر پر لانے کے لیے پرعزم ہیں۔
حکام نے پاور سیکٹر میں لاگت کم کرنے والی بنیادی اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھتے رہنے کا بھی عزم ظاہر کیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026