ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان تجارتی پیش رفت، 30 ارب ڈالر کی درآمدات پر ٹیرف میں ممکنہ نرمی پر غور متوقع
- امریکی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکا اور چین کے درمیان دوطرفہ اشیا کی تجارت 2024 کے 582 ارب ڈالر سے 29 فیصد کم ہو کر 2025 میں 415 ارب ڈالر رہ گئی
- امریکی تجارتی خسارہ تقریباً 32 فیصد کمی کے بعد 202 ارب ڈالر پر آ گیا، جو دو دہائیوں کی کم ترین سطح ہے
امریکا اور چین کے درمیان رواں ہفتے غیر حساس اشیا کی تجارت کے لیے ایک منظم تجارتی نظام کی جانب محدود پیش رفت متوقع ہے، جس کے تحت دونوں ممالک تقریباً 30 ارب ڈالر مالیت کی ایسی اشیا کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن پر باہمی طور پر ٹیرف میں کمی کی جائے اور تجارت کو قومی سلامتی کی حساس حدود متاثر کیے بغیر آگے بڑھایا جا سکے۔
”بورڈ آف ٹریڈ“ کہلانے والے اس مجوزہ نظام کا تصور پہلی بار مارچ میں امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر نے پیش کیا تھا، جسے اس ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم سربراہ ملاقات کے ایک بڑے متوقع معاہدے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اگرچہ اس منصوبے کی مکمل تفصیلات ابھی واضح نہیں، تاہم ماضی کے مذاکرات کے مقابلے میں ایک اہم تبدیلی نمایاں ہے۔ واشنگٹن اب بیجنگ سے یہ مطالبہ نہیں کر رہا کہ وہ اپنی ریاستی سرپرستی اور برآمدات پر مبنی معاشی پالیسی ترک کرکے امریکی طرز کی صارف پر مبنی اور آزاد منڈی کی معیشت اختیار کرے۔
اس کے برعکس موجودہ کوشش غیر اسٹریٹجک شعبوں میں تجارتی اہداف کے تعین پر مرکوز ہے، جبکہ قومی سلامتی سے متعلق حساس ٹیکنالوجیز پر وسیع ٹیرف اور برآمدی پابندیاں بدستور برقرار رکھی جائیں گی۔
گریر کا ”اڈاپٹر“ طرزِ عمل
امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر نے گزشتہ ہفتے فاکس بزنس نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “یہ ایسی صورتحال نہیں کہ ہم چین کو اس کا نظامِ حکومت یا معیشت چلانے کا طریقہ بدلنے پر مجبور کریں۔ یہ سب اس کے نظام کا حصہ ہے، لیکن میرے خیال میں ایسی گنجائش موجود ہے جہاں ہم یہ طے کر سکیں کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارت کو زیادہ متوازن بنانے کے لیے کن شعبوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔”
انہوں نے اس مجوزہ نظام کو ایک ایسے ”اڈاپٹر“ سے تشبیہ دی جو دو مختلف اور بظاہر غیر مطابقت رکھنے والے معاشی نظاموں کو آپس میں جوڑنے میں مدد دے سکتا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور چین کے نائب وزیراعظم ہی لی فنگ نے بدھ کے روز جنوبی کوریا کے شہر انچیون میں تین گھنٹے طویل ملاقات کی، جس کا مقصد بیجنگ میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان متوقع مذاکرات کے لیے اقتصادی تجاویز کو حتمی شکل دینا تھا۔ تاہم دونوں اعلیٰ حکام نے اس ابتدائی ملاقات کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اہداف سے واقف چار افراد کے مطابق نئی تجارتی حکمتِ عملی کے آغاز کے لیے 30 ارب ڈالر کے بدلے 30 ارب ڈالر مالیت کی تجارتی رکاوٹوں میں کمی کے فریم ورک پر اتفاق متوقع ہے۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کسی مخصوص اشیا کی فہرست کا اعلان کریں گے یا یہ معاملہ بعد کے مذاکرات پر چھوڑ دیا جائے گا۔
واشنگٹن میں ایشیا سوسائٹی پالیسی سینٹر کی سربراہ اور سابق امریکی تجارتی مذاکرات کار وینڈی کٹلر نے کہا کہ دونوں ممالک 30 سے 50 ارب ڈالر مالیت کی ایسی اشیا کی فہرست پر متفق ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جن پر ٹیرف یا دیگر تجارتی پابندیاں کم کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے منگل کو ایشیا سوسائٹی کے ایک ورچوئل فورم سے خطاب میں کہا، ”غیر حساس اشیا کا یہ شعبہ اب چین کے ساتھ ہماری مجموعی تجارت کا نسبتاً چھوٹا حصہ رہ گیا ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ یہ بورڈ آف ٹریڈ ابتدا اسی دائرے سے کرے اور مستقبل میں اسے مزید وسعت دی جائے۔“
امریکی مردم شماری بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 2024 کے 582 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2025 میں 415 ارب ڈالر رہ گیا، یعنی 29 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی دوران امریکی تجارتی خسارہ تقریباً 32 فیصد کم ہو کر 202 ارب ڈالر پر آ گیا، جو دو دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔
بیجنگ سربراہ اجلاس سے قبل امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر اور امریکی محکمہ خزانہ نے اس مجوزہ تجارتی نظام پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
چین نے ”بورڈ آف ٹریڈ“ کی اصطلاح استعمال کرنے سے گریز کیا ہے اور مارچ میں صرف اتنا کہا تھا کہ دونوں ممالک نے “اقتصادی اور تجارتی تعاون کو وسعت دینے کے لیے ورکنگ میکنزم قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے” پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
توانائی اور زراعت پر توجہ
امریکا چین کو توانائی اور زرعی مصنوعات کی فروخت بڑھانے کا خواہاں ہے، اس لیے بیجنگ کی جانب سے ان شعبوں پر عائد اضافی ٹیرف ممکنہ مذاکراتی نکات میں شامل ہو سکتے ہیں۔
چین اس وقت تمام امریکی درآمدات پر اضافی 10 فیصد عمومی ٹیرف نافذ کیے ہوئے ہے، جو چینی مصنوعات پر امریکا کے عارضی 10 فیصد ٹیرف کے برابر ہے۔
اس کے علاوہ، پہلے سے موجود ”پسندیدہ ترین ملک“ ٹیرف کے ساتھ چین امریکی خام تیل پر 10 فیصد، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پر 15 فیصد، کوئلے پر 15 فیصد اور گائے کے گوشت پر 55 فیصد تک جوابی ڈیوٹیز عائد کیے ہوئے ہے۔
دوسری جانب امریکا نے بھی 2019 میں ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران چین کے ساتھ تجارتی جنگ کے عروج پر عائد کیے گئے 7.5 فیصد ٹیرف اب تک متعدد چینی صارف مصنوعات پر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں فلیٹ پینل ٹی وی، فلیش میموری ڈیوائسز، اسمارٹ اسپیکرز، بلوٹوتھ ہیڈ فونز، بیڈ لائنن، ملٹی فنکشن پرنٹرز اور جوتوں کی کئی اقسام شامل ہیں۔ جولائی میں ختم ہونے والے عارضی 10 فیصد عالمی امریکی ٹیرف ان ڈیوٹیز کے علاوہ ہیں۔
امریکا ٹرمپ کے پہلے دور میں دی گئی چین سے متعلق 2,200 سے زائد مخصوص مصنوعات پر ٹیرف چھوٹ کی سہولت بھی بحال کر سکتا ہے، جن میں سے بیشتر کی مدت ختم ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے نومبر 2025 میں سولر مصنوعات تیار کرنے والے آلات اور 164 اقسام کی صنعتی و طبی مصنوعات پر عائد عارضی ٹیرف چھوٹ کو ایک سال کے لیے توسیع دی تھی۔ ان مصنوعات میں پرنٹڈ سرکٹ بورڈز سے لے کر الیکٹرک موٹرز اور بلڈ پریشر مانیٹرنگ آلات تک شامل ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے بعض چھوٹ مستقل بھی کی جا سکتی ہیں۔
”بورڈ آف انویسٹمنٹ“ پر بھی غور
دونوں ممالک سرمایہ کاری سے متعلق معاملات کے لیے ”بورڈ آف انویسٹمنٹ“ کے کم ترقی یافتہ تصور پر بھی بات چیت کر سکتے ہیں، تاہم جیمی سن گریر نے گزشتہ ماہ ہڈسن انسٹیٹیوٹ سے خطاب میں کہا تھا، ”میرے خیال میں چین کے ساتھ ہمارے تعلقات ابھی اس مرحلے پر نہیں پہنچے جہاں دونوں جانب بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بات کی جا سکے۔“
امریکی قانون سازوں، آٹو موبائل، اسٹیل اور ٹیکنالوجی شعبوں سے وابستہ گروپوں نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ نہ کیا جائے جو امریکی گاڑیوں کی صنعت میں چینی سرمایہ کاری کا راستہ کھول دے، کیونکہ اس سے امریکی مینوفیکچرنگ کی بنیاد کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔