کیئر اسٹارمر کی بطور وزیراعظم برقرار رہنے کیلئے ساتھیوں سےمشاورت
- کیئر اسٹارمر جو دو سال سے بھی کم عرصہ قبل وزیراعظم بنے تھے
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر منگل کے روز اس بات پر اپنے قریبی ساتھیوں سے مشاورت کرتے رہے کہ آیا وہ بطور وزیراعظم برقرار رہ سکتے ہیں یا نہیں، جبکہ اسی دوران ایک اہم کابینہ اجلاس بھی متوقع ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب متعدد وزارتی معاونین نے استعفیٰ دے دیا اور تقریباً 80 ارکانِ پارلیمنٹ نے کھل کر ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
کیئر اسٹارمر جو دو سال سے بھی کم عرصہ قبل وزیراعظم بنے تھے، نے پیر کے روز عہدہ چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری جاری رکھیں گے، تاہم حالیہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی بڑی شکست کے بعد ان کی اپنی جماعت کے اندر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ کے کئی اہم ارکان، جن میں وزیر داخلہ شبانہ محمود اور وزیر خارجہ ایویٹ کوپر شامل ہیں، نے اسٹارمر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے مستعفی ہونے کی تاریخ کا اعلان کریں۔
تقریباً 80 ارکانِ پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ قیادت کی تبدیلی کے لیے باقاعدہ ٹائم لائن دی جائے تاکہ نئی قیادت کا انتخاب ممکن ہو سکے۔
یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں سیاسی غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ رہی ہے اور قرض لینے کی لاگت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔