اداریہ

استحکام کیلئے حقیقت پسندی ناگزیر

اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ کیلنڈر سال کے دوران کچھ اشاریوں میں بہتری آئی
شائع اپ ڈیٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ ترین فنانشل اسٹیبلٹی ریویو پاکستان کے مالیاتی نظام میں لچک کو ظاہر کرتی ہے، جس میں بہتر زرمبادلہ ذخائر، مضبوط کیپیٹل بفرز اور کیلنڈر سال 2025 کے دوران ایک نسبتاً پُرسکون میکرو اکنامک ماحول کی نشاندہی کی گئی ہے۔

تاہم اسی رپورٹ میں مرکزی بینک یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور جیوپولیٹیکل غیر یقینی صورتحال افراطِ زر، معاشی نمو اور بیرونی استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ یہ تضاد مزید گہرے جائزے کا متقاضی ہے، کیونکہ اب جو معاشی ماحول گھروں اور کاروباری اداروں کو درپیش ہے وہ مجموعی طور پر اس تسلی بخش انداز سے کہیں زیادہ نازک دکھائی دیتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ کیلنڈر سال کے دوران کچھ اشاریوں میں بہتری آئی۔ ایک عرصے تک افراطِ زر ہدف کی حد میں آ گیا تھا، زرمبادلہ ذخائر میں بحالی ہوئی، اور بینکاری شعبہ بھی مستحکم اور منافع بخش رہا۔ آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت جائزوں کی تکمیل نے بھی اعتماد کو مضبوط کیا۔ یہ تمام پیش رفتیں حقیقی ہیں۔

اصل مشکل یہ ہے کہ ان بہتریوں کو اس طرح لیا جا رہا ہے جیسے یہ موجودہ معاشی سمت کی مکمل عکاسی کرتی ہوں۔ حالات تیزی سے بدل چکے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کے باعث تیل کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھ چکی ہیں، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پہلے ہی معیشت میں منتقل ہو رہے ہیں اور اسٹیٹ بینک خود خبردار کر چکا ہے کہ افراطِ زر کے دباؤ میں اضافہ متوقع ہے۔ مانیٹری سختی دوبارہ شروع ہو چکی ہے کیونکہ پالیسی ساز واضح طور پر جانتے ہیں کہ افراطِ زر کی توقعات دوبارہ اوپر جا رہی ہیں۔

یہ تبدیلی اہم ہے کیونکہ پاکستان کی افراطِ زر کی تاریخ عوامی یادداشت میں ابھی تازہ ہے۔ گھرانے اور کاروبار دہائیوں کی شدید ترین مہنگائی کے ایک دور سے حال ہی میں نکلے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ اسی پرانے دباؤ کو ٹرانسپورٹ، خوراک، مینوفیکچرنگ اور قرض لینے کی لاگت پر دوبارہ بڑھا سکتا ہے۔ جب افراطِ زر کی توقعات جڑ پکڑ لیں تو انہیں واپس کم کرنا کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

وسیع تر معاشی ماحول بھی اس پرامید تاثر کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ بجلی کی کمی اور لوڈشیڈنگ بدستور صنعتی پیداوار اور گھریلو استعمال میں خلل ڈال رہی ہے۔ توانائی کی بلند قیمتیں پیداوار اور صارفین کی قابلِ خرچ آمدن دونوں پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ کاروبار پہلے ہی بلند مالیاتی اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں اور اب انہیں بجلی کی دستیابی اور لاگت کے حوالے سے مزید غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

خوراک کی مہنگائی بھی ایک اہم خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ موجودہ سپلائی نسبتاً مستحکم ہے، لیکن ایندھن اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں آخرکار ریٹیل سطح پر منتقل ہو جاتی ہیں۔ یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ پاکستان میں خوراک گھریلو اخراجات کا بڑا حصہ رکھتی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ شاذ و نادر ہی صرف ایندھن تک محدود رہتا ہے۔

مالیاتی دباؤ ایک اور تشویش کی تہہ شامل کرتا ہے۔ نمو میں سستی کے باعث ریونیو وصولیوں کے اہداف حاصل کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے اور معاشی سرگرمی اتار چڑھائو کا شکار رہی ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی پر ریاستی انحصار ریونیو بڑھانے کے لیے افراطِ زر کے دباؤ کو مزید بڑھاتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب صارفین کی قوتِ خرید پہلے ہی دباؤ میں ہے۔

اس پس منظر میں اسٹیٹ بینک کی کمیونیکیشن اسٹریٹیجی اہم ہو جاتی ہے۔ مالیاتی استحکام کی رپورٹس سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ خطرے کی گھنٹی بجائیں، لیکن ان سے یہ ضرور توقع کی جاتی ہے کہ وہ مضبوط پہلوؤں کے ساتھ ساتھ قریب المدت خطرات کا متوازن جائزہ بھی پیش کریں۔ اگر صرف لچک کو زیادہ اجاگر کیا جائے اور فوری خطرات کو کم دکھایا جائے تو یہ سرکاری بیانیے اور زمینی معاشی حقیقت کے درمیان ایک خلا پیدا کر سکتا ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان کا بینکاری نظام دباؤ کو برداشت کر سکتا ہے یا نہیں۔ زیادہ تر روایتی اشاریوں کے مطابق کیپیٹل ایڈیکیسی اور پروویژننگ کی سطح مضبوط ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا میکرو اکنامک حالات پائیدار استحکام کی سمت جا رہے ہیں یا نہیں۔ اس محاذ پر خطرے کی نشانیاں اب نظر انداز کرنا مشکل ہو رہی ہیں۔

اسٹیٹ بینک خود تسلیم کرتا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع طویل ہو گیا تو تیل کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں، بیرونی کھاتے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور معاشی رفتار سست ہو سکتی ہے۔ بینک کے سروے میں شامل آزاد ماہرین نے جیوپولیٹیکل خطرے کو آئندہ چند ماہ میں مالیاتی استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ ان خدشات کو معاشی بیانیے کے مرکز میں زیادہ نمایاں جگہ ملنی چاہیے۔

مارکیٹس اور کاروبار کو یکطرفہ پرامیدی سے فائدہ نہیں ہوتا۔ انہیں وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پالیسی ساز اس وقت زیادہ اعتبار حاصل کرتے ہیں جب وہ چیلنجز کے حجم کو کھل کر تسلیم کریں اور ساتھ ہی یہ بتائیں کہ وہ ان کا مقابلہ کیسے کریں گے۔ یہ بات خاص طور پر اس معیشت میں اہم ہے جو بیرونی جھٹکوں کے لیے بہت حساس ہے۔

گزشتہ سال حاصل ہونے والی پیش رفت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، لیکن ان کو برقرار رکھنے کے لیے آنے والے خطرات کے بارے میں حقیقت پسندی ضروری ہے۔ استحکام صرف تسلی بخش بیانیے سے برقرار نہیں رہتا۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ابھرتے ہوئے دباؤ کو بروقت پہچانا جائے، مربوط ردعمل دیا جائے اور مستقبل کے راستے کے بارے میں شفاف انداز میں بات کی جائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026