واشنگٹن کا بیجنگ پر آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے دباؤ، چین کا دشمنی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ
- بیجنگ میں 14 سے 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی سربراہی ملاقات میں اسی موضوع کے چھائے رہنے کا امکان ہے
ایران جنگ نے امریکہ اور چین کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر دیا ہے اور اب بیجنگ میں 14 سے 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی سربراہی ملاقات میں اسی موضوع کے چھائے رہنے کا امکان ہے۔
نیچے وہ اہم معاملات درج ہیں جو واشنگٹن اور بیجنگ کے لیے داؤ پر لگے ہوئے ہیں، کیونکہ ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل جنگ نے ان کے وسیع تر تعلقات کے حساب کتاب کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
ایران جنگ بندی مذاکرات
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ دونوں صدور ایران جنگ پر تبادلہ خیال کریں گے۔ انہوں نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو کھولنے کی خاطر اس ”بین الاقوامی آپریشن“ میں امریکہ کا ساتھ دے۔ اگرچہ بیجنگ نے گزشتہ ماہ پاکستان میں امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ایران کو قائل کرنے کی پسِ پردہ کوششیں کیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ صرف واشنگٹن کے ایما پر کام نہیں کرے گا۔
گزشتہ ہفتے ایرانی وزیرِ خارجہ کے دورہ بیجنگ کے بعد چین نے ”دشمنی کے مکمل خاتمے“ کا مطالبہ کیا ہے۔ جوہری مسئلے پر چین کا کہنا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے ایرانی عزم کی قدر کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے ایران کے جائز حق کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ کا ماننا ہے کہ ایران جوہری بم بنانا چاہتا ہے، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ ایران 20 سال تک یورینیم افزودہ کرنے کا حق ترک کر دے اور اپنے افزودہ ذخائر حوالے کر دے۔
توانائی کا تحفظ
جنگ طویل ہونے کے ساتھ چین کے لیے توانائی کے تحفظ کے خطرات بڑھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے بیجنگ کو اپنی ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے پیٹرول اور جیٹ فیول جیسی مصنوعات کی منافع بخش برآمدات میں کٹوتی کرنا پڑی ہے۔ چین کی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً نصف مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے، جہاں آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے بحری جہاز خلیج کے اندر پھنس کر رہ گئے ہیں اور ان پر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ چینی کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق اس تنازع کی وجہ سے اپریل میں چین کی مجموعی خام تیل کی درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد کمی آئی، جو تقریباً چار سال کی کم ترین سطح ہے۔
ایرانی تیل اور اسلحہ فروخت پر امریکی پابندیاں
ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کے باوجود چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ ایران کے برآمدی تیل کا 80 فیصد سے زائد حصہ چین جاتا ہے، کیونکہ چین کی نجی ریفائنریاں امریکی پابندیوں کے شکار سستے ایرانی تیل سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ تخمینے کے مطابق چین نے 2025 میں روزانہ اوسطاً 13.8 لاکھ بیرل ایرانی تیل خریدا۔
اپریل میں امریکی محکمہ خزانہ نے اربوں ڈالر کا ایرانی تیل خریدنے پر چینی ریفائنری ’ہینگلی پیٹرو کیمیکل‘ پر پابندیاں عائد کیں اور دو چینی بینکوں کو بھی ثانوی پابندیوں کی وارننگ دی گئی۔ بیجنگ نے اس کا سخت جواب دیتے ہوئے اپنی کمپنیوں کو ان پابندیوں پر عمل نہ کرنے کا حکم دیا ہے اور پہلی بار ایک ایسے قانون کا سہارا لیا ہے جو بیجنگ کو ”غیر قانونی“ پابندیوں کے خلاف جوابی کارروائی کا حق دیتا ہے۔ ٹرمپ کے دورے سے محض چند روز قبل امریکہ نے دو چینی اور دو ہانگ کانگ کی کمپنیوں پر ایران کو اسلحہ اور بیلسٹک میزائل کا سامان فراہم کرنے کے الزام میں مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔