جولائی تا مارچ غیر ملکی امداد میں 19.73 فیصد اضافہ ریکارڈ
- اس عرصے کے دوران دو طرفہ گرانٹس 43.61 ملین ڈالر رہیں
مالی سال 2025-26 کے جولائی تا مارچ کے دوران پاکستان میں غیر ملکی مالی معاونت کی آمد میں 19.73 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو بڑھ کر 6.59 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 5.50 ارب ڈالر تھی۔
اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس عرصے کے دوران دو طرفہ گرانٹس 43.61 ملین ڈالر رہیں۔ ان میں چین 10.57 ملین ڈالر، جاپان 19.20 ملین ڈالر، جرمنی 9 ملین ڈالر اور سعودی عرب 3.31 ملین ڈالر کے ساتھ اہم معاون ممالک میں شامل رہے۔
اسی مدت میں دو طرفہ قرضوں کی مجموعی مالیت 1.04 ارب ڈالر رہی۔ اس میں سب سے بڑا حصہ سعودی عرب کا تھا جس نے آئل فیسلٹی کے تحت 910 ملین ڈالر فراہم کیے۔ دیگر ممالک میں چین 72.28 ملین ڈالر، ڈنمارک 71 ملین ڈالر، فرانس 47.72 ملین ڈالر، جاپان 23 ملین ڈالر، کویت 22 ملین ڈالر، جرمنی 12 ملین ڈالر اور جنوبی کوریا 9.49 ملین ڈالر شامل ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر دو طرفہ گرانٹس اور قرضوں کی مالیت 1.169 ارب ڈالر رہی۔
دریں اثنا، چین سے حاصل شدہ گارنٹی شدہ دو طرفہ قرضوں میں ماہانہ بنیاد پر 123.4 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ رقم بڑھ کر 392.82 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔
ملٹی لیٹرل گرانٹس کے تحت اس عرصے میں مجموعی طور پر 54.79 ملین ڈالر موصول ہوئے، جن میں انٹرنیشنل بینک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ (آئی بی آر ڈی) سے 26.03 ملین ڈالر، انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) سے 10.76 ملین ڈالر، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ (آئی ایف اے ڈی) سے 2.72 ملین ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے 14.50 ملین ڈالر شامل ہیں۔
اسی مدت میں ملٹی لیٹرل قرضوں کی مجموعی مالیت 2.58 ارب ڈالر رہی۔ بڑے قرض دہندگان میں آئی ڈی اے سے 829 ملین ڈالر، اے ڈی بی سے 727 ملین ڈالر، اسلامی ترقیاتی بینک (شارٹ ٹرم) سے 483.78 ملین ڈالر، آئی بی آر ڈی سے 376.36 ملین ڈالر، اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) سے 56.13 ملین ڈالر، ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) سے 88.86 ملین ڈالر اور آئی ایف اے ڈٰ سے 21.39 ملین ڈالر شامل ہیں۔ پاکستان کو اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک لندن سے 201.90 ملین ڈالر اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 209.51 ملین ڈالر کے قرضے بھی موصول ہوئے۔
نیا پاکستان سرٹیفکیٹس (این پی سی) کے تحت جولائی تا مارچ کے دوران 2.03 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں، جن میں 1.44 ارب ڈالر اسلامی این پی سی اور 593.64 ملین ڈالر روایتی این پی سی شامل ہیں۔
ای ایف ایف کے تحت آئی ایم ایف کی مالی معاونت کو اقتصادی امور ڈویژن یا وزارت خزانہ کے کھاتوں میں ظاہر نہیں کیا جاتا، کیونکہ یہ ادائیگیوں کے توازن کی معاونت ہوتی ہے اور اسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بیلنس شیٹ میں ریکارڈ کیا جاتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026