آئی ایم ایف شرائط پوری کرنے کیلئے پیٹرولیم لیوی میں بڑا اضافہ
- ہائی اسپیڈ ڈیزل کی خوردہ قیمت میں فی لیٹر 15 روپے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 14.93 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا
آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر پٹرولیم لیوی (پی ایل) میں فی لیٹر 13.91 روپے اضافہ کر دیا ہے۔ اس اقدام سے لاگت میں اضافے کے باعث مہنگائی میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے، جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ 7 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں سالانہ بنیاد پر 15.16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
9 مئی سے نافذ ہونے والی نئی قیمتوں کے تحت ہائی اسپیڈ ڈیزل کی خوردہ قیمت میں فی لیٹر 15 روپے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 14.93 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔
یہ اضافہ بنیادی طور پر پٹرولیم لیوی میں نمایاں ردوبدل کے باعث ہوا۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 28.69 روپے سے بڑھا کر 42.60 روپے فی لیٹر کر دی گئی، جبکہ پیٹرول پر لیوی 103.50 روپے سے بڑھا کر 117.41 روپے فی لیٹر کر دی گئی۔
مزید برآں، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت میں 10.47 روپے اضافہ ہوا، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں معمولی طور پر 1.08 روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم موجودہ قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ پٹرولیم لیوی میں بڑا اضافہ ہے۔
مالی سال 2025-26 کے جولائی تا اپریل عرصے کے دوران حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں 1.3 ٹریلین روپے وصول کیے، جو سالانہ ہدف 1.4 ٹریلین روپے کے قریب ہے۔ باقی ماندہ ہدف حاصل کرنے کے لیے آئی ایم ایف نے حکومت کو لیوی میں مزید 53 روپے فی لیٹر اضافے کا اختیار دیا ہے، جسے دو مختلف مراحل میں نافذ کیا جائے گا۔
قیمتوں میں مجموعی اضافے کے اثرات کو کسی حد تک کم کرنے کے لیے حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر اِن لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (آئی ایف ای ایم) کو 17.14 روپے سے کم کر کے 7.76 روپے فی لیٹر کر دیا، جبکہ پیٹرول پر یہ مارجن 7.32 روپے سے کم ہو کر 7.25 روپے فی لیٹر رہ گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026