ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل کی پیرنٹ کمپنی کو 40 کروڑ ڈالر کا نقصان
- کرپٹو کرنسیز کی قیمتوں میں نمایاں کمی وجہ قرار
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل کی پیرنٹ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ پہلی سہ ماہی کے دوران اسے 40 کروڑ ڈالر سے زائد کا خالص نقصان ہوا جس کی بڑی وجہ کرپٹو کرنسیز کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہے۔
کمپنی کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ نے 31 مارچ کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران اپنی آمدنی 10 لاکھ ڈالر سے بھی کم رپورٹ کی ہے۔
ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ میں تقریباً 41 فیصد حصص کے مالک ہیں جو ایک ایسے ٹرسٹ میں رکھے گئے ہیں جو ان کی صدارت کے دوران ان کے مالی مفادات کے انتظام کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
ٹی ایم ٹی جی مالیاتی خدمات کے شعبے میں بھی سرگرم ہے اور کمپنی نے ایک سال قبل کرپٹو کرنسیوں میں سرمایہ کاری کے لیے 2.5 ارب ڈالر کی فنڈنگ کا اعلان کیا تھا جو صدر ٹرمپ کے حالیہ دلچسپی کے شعبوں میں سے ایک ہے۔
لیکن ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمتوں میں آنے والی بڑی گراوٹ نے کاروبار کے اس حصے کو شدید متاثر کیا ہے، کیونکہ بٹ کوائن کی قیمت اکتوبر کے اوائل میں 126,000 ڈالر سے زائد کی سطح سے گر کر مارچ میں 70,000 ڈالر سے بھی نیچے آگئی۔
تب سے اب تک اس کی قیمت میں کچھ بہتری آئی ہے اور یہ دوبارہ 80,000 ڈالر سے اوپر پہنچ چکی ہے۔
چونکہ کمپنی کے لیے اپنی سرمایہ کاری کی مالیت ظاہر کرنا لازمی ہے، خواہ اس نے اسے فروخت نہ بھی کیا ہو، اس لیے کمپنی نے پہلی سہ ماہی میں 40 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا نقصان ریکارڈ کیا ہے۔
کمپنی نے بیان دیا ہے کہ نقصان کا بڑا حصہ ڈیجیٹل اثاثوں کی وجہ سے ہوا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ٹی ایم ٹی جی نے پہلی سہ ماہی کے دوران صرف 9 لاکھ ڈالر کی آمدنی حاصل کی جو کہ اسٹاک مارکیٹ میں 2.47 ارب ڈالر مالیت کی کمپنی کے لیے انتہائی معمولی رقم ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں آمدنی بڑھانے والے فیچرزکی تیاری کے لیے اپنے انفرااسٹرکچر اور سامعین کی تعداد میں اضافے پر توجہ مرکوز جاری رکھے ہوئے ہے۔
ٹی ایم ٹی جی نے دسمبر میں بتایا تھا کہ وہ امریکی کمپنی ٹی اے ای کے ساتھ انضمام کر رہی ہے جو نیوکلیئر فیوژن ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہے۔
توقع ہے کہ یہ معاہدہ 2026 کے وسط میں مکمل ہو جائے گا۔