پاکستان

نیپرا نے آئی جی سی ای پی 2025-35 پر سخت سوالات اٹھا دئیے

  • پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 2035 تک 49 فیصد اضافے کے ساتھ 64,035 میگاواٹ تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے
شائع اپ ڈیٹ

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی) 2025-35 پر متعدد سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں، جس کے تحت پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 2035 تک 49 فیصد اضافے کے ساتھ 64,035 میگاواٹ تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جو 2024 میں 43,069 میگاواٹ تھی۔

نیپرا کے مطابق نظرثانی شدہ منصوبے میں بڑے ہائیڈرو پاور منصوبوں جیسے 2,160 میگاواٹ داسو، 800 میگاواٹ مہمند اور 4,500 میگاواٹ دیامر بھاشا کی تجارتی آپریشن تاریخوں (سی او ڈیز) میں تاخیر ظاہر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مارکیٹ بیسڈ انڈکشن کے تحت 3,109 میگاواٹ قابلِ تجدید توانائی منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں، جس کے باعث ٹرانسمیشن اور ترسیلی انفرااسٹرکچر کے شیڈول میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔

نیپرا نے سوال اٹھایا ہے کہ موجودہ اضافی صلاحیت اور کم ہوتی طلب کے باوجود مزید بجلی پیداوار بڑھانے کا جواز کیا ہے۔ ادارے نے مستقبل کی طلب کے تخمینوں کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے ان کی بنیاد پر بھی وضاحت طلب کی ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومتوں اور کے الیکٹرک کے منصوبوں کو نظرانداز کرنے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

اتھارٹی نے ڈسکوز سے مشاورت نہ ہونے، ڈیٹا کی شفافیت، کم بی ٹی یو گیس سے چلنے والے پلانٹس کی کارکردگی، موجودہ پیداواری صلاحیت کے غلط اعداد و شمار اور مستقبل کے منصوبوں کی غیر حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز پر بھی وضاحت طلب کی ہے۔ نیپرا نے یہ بھی پوچھا ہے کہ منصوبے میں ٹی ایس ای پی اور آئی جی سی ای پی کے درمیان ہم آہنگی کیوں نہیں ہے اور صارفین پر ٹیرف اثرات کا مکمل جائزہ کیوں پیش نہیں کیا گیا۔

سرکاری بریفنگ کے مطابق ڈسکوز نے گرڈ سے منسلک بجلی کی کھپت میں نمایاں کمی رپورٹ کی ہے جس کی وجہ معاشی سست روی اور نیٹ میٹرنگ و سولر سسٹمز میں اضافہ بتایا گیا ہے، تاہم طویل المدتی منصوبہ سازوں کے مطابق یہ کمی عارضی ہے۔

منصوبے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کو بجلی کی ترسیل 2035 تک 3,456 میگاواٹ تک بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ پہلے یہ تخمینہ 2,050 میگاواٹ تھا۔ نیپرا نے ہدایت کی ہے کہ تمام منصوبہ بندی کو شفاف، مربوط اور قابلِ عمل بنایا جائے تاکہ مستقبل میں نظام پر مالی اور تکنیکی دباؤ سے بچا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026