رائے

قرض دو اور پیچھا چھوڑو

  • شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اشرافیہ کا ذاتی قرض قوم کا بوجھ بن جاتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

اکتوبر1958 تک پاکستان قرضوں سے پاک تھا اور بطور قوم ہم اپنے وسائل کے اندر رہتے تھے، سادگی اور کفایت شعاری ہمارا طرہ امتیاز تھی۔آج یہ جمہوریہ قرضوں کے دلدل میں دھنس چکی ہے، جس کا صرف بیرونی حصہ ہی تقریباً 140 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔

وفاقی بجٹ کا پورا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے، جس کے بعد اس بھاری بھرکم اور ناکارہ ریاستی مشینری کو چلانے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت ٹیکسوں کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل کر دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ آئی ایم ایف، جو کہ قرض دینے والا آخری سہارا ہے اس نے بھی اب فنڈز جاری کرنے سے پہلے کڑی شرائط عائد کرنا شروع کر دی ہیں۔ اب وہ وقت گزر گیا جب قرض بھی مل جاتا تھا اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں تھا، اب صورتحال واقعی سنگین ہو رہی ہے۔

حال ہی میں میری نظر سے ایک جملہ گزرا ”قرض دو اور میرا پیچھا چھوڑو“ جس نے میری توجہ کھینچ لی۔ یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کہانی ہے جہاں ادھار لی گئی رقم کو اس طرح بے دردی سے اڑایا گیا جیسے اسے کبھی واپس ہی نہیں کرنا تھا۔ آسان پیسہ صدیوں سے انسانیت کو محکوم بنانے کا سب سے بڑا جال رہا ہے۔ جب قرض کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہو جائے تو مقروض قومیں ادارے اور افراد ہمیشہ کے لیے ڈوب جاتے ہیں اور پھر کبھی اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہو پاتے۔ یہ معذوری لاعلاج ہوتی ہے۔

شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اشرافیہ کا ذاتی قرض قوم کا بوجھ بن جاتا ہے۔ یہاں جو قرض لیتا ہے وہ واپس نہیں کرتا، قرضوں کی معافی اور ڈیفالٹ یہاں ایک معمول بن چکا ہے۔ پھر وہ کمیشن والے منصوبے ہیں جو ادھار کی رقم سے بنائے جاتے ہیں مگر ان کی واپسی کا کوئی ڈھانچہ موجود نہیں۔ آئی ایم ایف نے حال ہی میں مشاہدہ کیا ہے کہ سرکاری اخراجات پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ پارلیمانی نگرانی یا بحث کا فقدان ہے، صرف خریداری کے قواعد طے ہیں جبکہ ضرورت کا تعین اور قرض کی واپسی پر کوئی غور نہیں کیا جاتا۔ محمد خان جونیجو کی حکومت نے تمام سرکاری گاڑیوں کے لیے 1000 سی سی کی حد مقرر کی تھی، یہ ایک بڑا اقدام تھا جس نے سرکاری اخراجات کو منطقی بنایا۔ ایک مقروض قوم کے لیے یہ ایک درست فیصلہ تھا۔ پھر ہم نے جاپانی گاڑیوں کی اسمبلنگ شروع کی، تاکہ مقامی سطح پر پرزہ جات تیار کیے جا سکیں، لیکن بدقسمتی سے چار دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ پروگرام ناکام رہا اور امپورٹ بل آج بھی لاکھوں میں ہے جسے فوری طور پر کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ادھار کے پیسوں پر پرتعیش گاڑیوں میں گھومنا واقعی شرمناک ہے۔

مالیات کا سنہرا اصول یہ ہے کہ پیسہ خرچ کرنے سے پہلے کمایا جانا چاہیے۔ دورِ حاضر کے سود خوروں نے بھولے بھالے لوگوں کو پھنسانے کے لیے ہر طرح کے جال بچھا رکھے ہیں۔ جب میں ایریزونا میں طالب علم تھا تو مجھے مقامی بینک سے ایک خط موصول ہوا۔ ان دنوں مالیاتی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے بینک صرف ریاستی حدود میں کام کر سکتے تھے، مگر بعد میں یہ پابندی ختم کر دی گئی۔ مجھے 5000 ڈالر کی کریڈٹ لائن اور کچھ چیک بک دی گئی جنہیں کیش کرایا جا سکتا تھا۔ اس خط کی تحریر بڑی دلکش تھی جس میں لکھا تھا ”مبارک ہو، جلد ہی آپ گریجویٹ ہو جائیں گے اور آپ کے کیریئر میں 50 لاکھ ڈالر کمانے کی صلاحیت ہے تو پھر انتظار کیوں؟ ابھی اپنے خواب پورے کریں۔“ جن لوگوں نے یہ پیشکش قبول کی، انہوں نے اپنی باقی زندگی قرض کے ناقابلِ اصلاح جال میں گزاری۔ 1958 میں فیلڈ مارشل نے ہی اس قوم کو ”تیز رفتار ترقی“ کے نام پر اس دلدل میں دھکیلا تھا جو درحقیقت ایک پھندا ثابت ہوا۔

قرض اس ریاست کے لیے ایک بہت بڑا فالٹ لائن بن چکا ہے جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اب انتخاب ’قرضوں کی ادائیگی میں مہلت‘ اور ’ڈیفالٹ‘ کے درمیان یا ان دونوں کے امتزاج کا ہے، کیونکہ اب حالات جوں کے توں نہیں چل سکتے۔ قرضوں کے کنٹرول کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی ہونی چاہیے۔ یکم جولائی 2026 سے شروع ہونے والے اگلے بجٹ میں تمام مستقبل کے قرضوں پر پابندی ہونی چاہیے اور قرض خواہوں سے سود کی ادائیگیوں کو پانچ سال کے لیے معطل کرنے پر مذاکرات کرنے چاہئیں۔ ادائیگیوں کا توازن ہر صورت حاصل کرنا ہوگا اور درآمدی و برآمدی بلوں کو یکجا کر کے ان کی کڑی نگرانی کرنی ہوگی۔ ریاستی اخراجات میں بڑے پیمانے پر کٹوتی ناگزیر ہے۔

جنہوں نے قرض کی دستاویزات پر دستخط کیے اور جو آج بھی کر رہے ہیں انہیں اب تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ سن 1985 سے اب تک لیے گئے ایک ایک روپے کا حساب ہونا چاہیے۔ معاف کیے گئے قرضوں کی دستاویزات بھی سامنے لائی جائیں اور انہیں عوامی سطح پر عام کیا جائے۔ یہ آنکھ مچولی کا کھیل اب ختم ہونا چاہیے۔ یہاں ”لُٹو تے پھُٹو“ کا رواج رہا ہے۔ پنجابی کی ایک مشہور مثل ہے کہ ”جو گاجریں کھائے گا، پیٹ میں درد بھی اسی کے ہوگا“۔ بڑھتی ہوئی کمر کو چھپایا نہیں جا سکتا، ایک معمولی نظر اسے بھانپنے کے لیے کافی ہے۔ اب تلاشی شروع ہونی چاہیے ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟ پاکستان اب مالی طور پر مستحکم نہیں رہا، قرضوں کا یہ غبارہ پھٹنے کو تیار ہے۔ یہ شتر مرغ والا رویہ ترک کرنا ہوگا۔ شتر مرغ ایک ایسا پرندہ ہے جو اپنے قد و قامت کی وجہ سے چھپ نہیں سکتا اور شکاری کے لیے ایک آسان شکار بن جاتا ہے۔ اقبال نے ”شاہین“ کا تصور دیا تھا وہ خوددار پرندہ جو اونچی اڑان بھرتا ہے لیکن قرض نے ہماری اڑان کو متاثر کر دیا ہے، اب ان مجرموں کو مزید رعایت نہیں دی جا سکتی۔