کاروبار اور معیشت

سپر ٹیکس پر ڈیفالٹ سرچارج کا نفاذ، پی ٹی بی اے کا اظہار تشویش

  • وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کے مطابق فیلڈ فارمیشنز کو سپر ٹیکس پر ڈیفالٹ سرچارج عائد کرنے سے روکنے کی ہدایت جاری کی جائے۔

ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال کو لکھے گئے ایک خط میں پی ٹی بی اے کے صدر شیخ احسن الحق اور جنرل سیکرٹری طاہر محمود بٹ نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن فور سی اور فور بی کے تحت اعلیٰ عدالتوں کے حالیہ فیصلوں کے بعد شروع کیے گئے ریکوری اقدامات اور فیلڈ فارمیشنز کی جانب سے ڈیفالٹ سرچارج کے نفاذ سے پیدا ہونے والے ممکنہ منفی معاشی اثرات پر روشنی ڈالی۔

خط میں کہا گیا کہ ہم ملک بھر کے ضلعی ٹیکس بارز کی نمائندہ تنظیم کی حیثیت سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن فور سی اور فور بی کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلوں سے پیدا ہونے والے اہم قانونی اور عملی مضمرات کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔

پی ٹی بی اے نے مشاہدہ کیا کہ وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا ہے اور اسے آئین کے عین مطابق (انٹرا وائرز) قرار دیا ہے۔ دریں اثنا اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ایم پاک لمیٹڈ کے نام سے دائر رٹ پٹیشن نمبر 1125 اور 1126 میں فیصلہ دیا ہے کہ سیکشن فور سی کے تحت پیدا ہونے والی ذمہ داری اپنی نوعیت میں خود مختار ہے۔ اس حیثیت میں یہ آرڈیننس کی کسی بھی شق کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ یا ریفنڈ کی اجازت نہیں دیتا۔

ایسوسی ایشن نے خط میں نشان دہی کی ہے کہ ان عدالتی فیصلوں کے بعد فیلڈ فارمیشنز نے آرڈیننس کے سیکشن 205 کے تحت ڈیفالٹ سرچارج کے نفاذ کے لیے نوٹسز جاری کرنا شروع کردیے ہیں۔ عدم تعمیل کی صورت میں سیکشن 205 اور 137 کے تحت کارروائیوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

خط میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ ان حالات میں ایک سنگین قانونی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر سیکشن 4C کے تحت عائد ذمہ داری کو خود مختار اور آزاد قرار دیا گیا ہے، جس میں ودہولڈنگ ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ یا ریفنڈ کی کوئی گنجائش نہیں، تو پھر کس قانونی بنیاد پر سزا اور ریکوری کی دفعات کا سہارا لیا جا رہا ہے جبکہ ریلیف فراہم کرنے والی شقوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے؟

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026