کلیئرنس ملنے کے باوجود ٹورنٹو ائرپورٹس سے واپسی کا فیصلہ کیا، صدر ایرانی فٹبال فیڈریشن
- ائرپورٹ پر تین گھنٹے تک پوچھ گچھ ککے بعد فیفا کانگریس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا، مہدی تاج
ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے بتایا ہے کہ کینیڈین حکام نے انہیں فیفا کانگریس میں شرکت کیلئے ملک میں داخلے کی اجازت دے دی تھی تاہم ٹورنٹو ائرپورٹ پر3 گھنٹے تک پوچھ گچھ کیے جانے کے بعد ایرانی وفد نے واپسی لوٹنے کا فیصلہ کیا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے سابق رکن مہدی تاج نے بتایا کہ کینیڈین امیگریشن حکام نے ان سے اس گروپ سے تعلق کے بارے میں پوچھ گچھ کی لیکن آخر کار انہیں وینکوور میں ورلڈ کپ سے قبل ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے ملک میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔
کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے ارکان کا ملک میں داخلہ ممنوع ہے۔
یاد رہے کہ کینیڈا رواں سال جون سے امریکہ اور میکسیکو کے ساتھ مل کر ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کرنے والا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے مہدی تاج کے حوالے سے بتایا کہ ہم سب کے پاس ویزے تھے اور ترکیہ میں بھی ہماری چیکنگ کی گئی تھی۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ ہمیں آپ سے کچھ سوالات کرنے ہیں اور پوچھا کہ کیا ہم پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے رکن ہیں۔
ہم نے انہیں جواب دیا کہ ایران میں 90 ملین (9 کروڑ) لوگ پاسدارانِ انقلاب کے رکن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس تنظیم سے وابستہ افراد کو داخلے کی اجازت نہیں دیتے، یہ ہمارے ملک کا قانون ہے۔
کچھ دیر بعد انہوں نے داخلے کی اجازت دے دی لیکن ہم نے خود ہی واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ہمیں ڈی پورٹ نہیں کیا بلکہ ہم نے خود واپس آنے کا فیصلہ کیا، میں نے کینیڈین حکام سے کہا کہ آپ نے ہمیں ایئرپورٹ پر 3 گھنٹے روکے رکھا اور بلاوجہ ہمیں انتظار کرایا۔
رائٹرز نے امیگریشن رفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا سے اس معاملے پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا جو ملک کے سفری ویزے جاری کرنے والا ادارہ ہے۔
مہدی تاج نے بتایا کہ ترکیہ واپسی کے بعد فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے ایرانی وفد کو کینیڈا لے جانے کے لیے ایک خصوصی جہاز بھیجنے کی پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے انکار کردیا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے فیفا کے سیکرٹری جنرل سے کہا کہ آپ لوگ امریکہ سے مرعوب ہیں اور وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں آپ اس پر جی جناب کہتے ہیں۔
رائٹرز نے اس سلسلے میں تبصرے کے لیے فیفا سے بھی رابطہ کیا ہے۔