چین کے تجارتی دباؤ میں اضافے کے باوجود ٹرمپ شی جن پنگ ملاقات سے قبل وائٹ ہاؤس خاموش
- یہ قواعد سپلائی چین میں چین پر انحصار کم کرنے کی امریکی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں
بیجنگ نے رواں ماہ تجارتی شعبے میں نئے قواعد و ضوابط متعارف کرائے ہیں، جنہوں نے امریکی کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قواعد سپلائی چین میں چین پر انحصار کم کرنے کی امریکی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا ردعمل غیر معمولی طور پر خاموش رہا اور امریکی حکام نے اب تک بیجنگ کے اس اقدام پر عوامی سطح پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یہ قواعد جو چینی صدر شی جن پنگ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 14 تا 15 مئی کی مجوزہ سربراہی ملاقات سے محض چند ہفتے قبل سامنے آئے ہیں، ان غیر ملکی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں جو اپنی سپلائی چین چین سے باہر منتقل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے کاروباری اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ڈی رسکنگ اختیار کریں، یعنی چینی مصنوعات پر انحصار کم کریں اور اہم معدنیات و ادویات سمیت اسٹریٹجک صنعتوں میں خود کفالت حاصل کریں۔ تاہم بیجنگ کے نئے قواعد و ضوابط دراصل امریکی اور دیگر غیر ملکی کمپنیوں کو اس کے برعکس سمت میں دھکیل رہے ہیں۔
ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل بیجنگ کے اس اعلان کے وقت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ بیجنگ یہ دیکھنا چاہ رہا ہے کہ وائٹ ہاؤس تجارتی جنگ میں جاری تعطل کو برقرار رکھنے کے لیے کتنا بے تاب ہے۔ یہ تجارتی جنگ گزشتہ سال کے اوائل میں امریکہ کی جانب سے محصولات کی یلغار اور چین کے جوابی ٹیکسوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔
اہلکار نے کہا کہ یہ ڈی رسکنگ کو روکنے کی ایک واضح کوشش ہے۔
کاروباری گروپوں نے چین کے ان نئے ضوابط پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چین میں موجود امریکن چیمبر آف کامرس نے رائٹرز کو بتایا کہ چین بغیر کسی بڑے نقصان کے غیر ملکی کمپنیوں سے خریداری بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ دوسری جانب غیر ملکی کمپنیوں کو اپنا انحصار کم کرنے کی صورت میں چینی حکام کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے ماہرِ چین کریگ سنگلٹن کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کا اب تک کا ردعمل خاموش رہا ہے جس سے کمزوری کا تاثر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سربراہی ملاقات (سمٹ) قریب ہونے کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ عوامی سطح پر کشیدگی بڑھانے سے گریز کرنا چاہتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش ڈیسائی نے ان اقدامات کے بارے میں رائٹرز کے سوالات کا براہ راست جواب نہیں دیا بلکہ صرف یہ بیان دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ہماری قومی اور معاشی سلامتی کے تحفظ کے لیے امریکہ کی معاشی طاقت کے ہر ممکن حربے کو استعمال کرتی رہے گی۔
محکمہ خزانہ اور امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے تبصرے کے لیے رائٹرز کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔
تجارتی محاذ آرائی کی پالیسی سے انحراف
ٹرمپ انتظامیہ کی ان نئے قواعد پر خاموشی، جسے امریکی صنعت سے وابستہ کئی لوگ ایک انتباہی اشارہ قرار دے رہے ہیں، اس دو طرفہ تجارتی محاذ آرائی سے بالکل مختلف ہے جو جنوبی کوریا میں شی جن پنگ کے ساتھ ٹرمپ کی اکتوبر میں ہونے والی ملاقات سے قبل دیکھی گئی تھی۔
بوسان میں دونوں فریقین بالآخر ایک غیر مستحکم تجارتی جنگ بندی پر متفق ہو گئے تھے لیکن ٹرمپ نے چین کی جانب سے اہم معدنیات کی برآمدات پر پابندیوں کے جواب میں چین کو امریکی سافٹ ویئر کی تمام برآمدات روکنے اور چینی سامان پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی۔
چین کے نئے اقدامات میں کہا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی ادارے جو ہمارے ملک کے شہریوں یا تنظیموں کے ساتھ معمول کے لین دین معطل کرنے جیسے اقدامات کریں گے، ان کے خلاف تحقیقات اور تادیبی کارروائی کی جا سکے گی۔
ان قواعد میں نفاذ کے لیے کسی مخصوص صنعت کی نشاندہی تو نہیں کی گئی، لیکن یہ کہا گیا ہے کہ چینی ادارے خام مال، ٹیکنالوجی اور آلات کی گردش کے تحفظ کے لیے ایک اہم شعبوں کی فہرست تیار کریں گے۔
یہ اقدامات کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکی ادویات ساز کمپنیاں اپنی پیداوار اور سپلائی چین کو بھارت اور دیگر ایسے ممالک میں منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جن کی واشنگٹن کے ساتھ جغرافیائی و سیاسی دشمنی کم ہے۔
چین کے نئے قواعد کے تحت اس طرح کے اقدامات کو چین کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں کمپنیوں کو سرمایہ کاری اور درآمدات یا برآمدات پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان کے عملے کو ملک میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
چند روز بعد شائع ہونے والے چینی ضوابط کے دوسرے سیٹ میں ان غیر ملکی فرموں کے لیے سزائیں وضع کی گئی ہیں جو غیر منصفانہ ماورائے علاقائی دائرہ اختیار کی تعمیل کرتی ہیں، یہ بیجنگ کی جانب سے امریکی پابندیوں اور برآمدی کنٹرولز کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔