پاکستان کی زرعی منصوبہ بندی میں اعتبار کا فقدان ایک بار پھر مزید بڑھ گیا ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کی جانب سے حالیہ وارننگ ایک جانے پہچانے نمونے کی نشاندہی کرتی ہے: وفاقی کمیٹی برائے زراعت (ایف سی اے) کی جانب سے مقرر کردہ وہ پرجوش اہداف جن کا زمینی حقائق سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
گزشتہ ہفتے ایف سی اے نے سال 27-2026 کے لیے کپاس کی پیداوار کا ہدف 9.6 ملین گانٹھیں مقرر کیا ہے حالانکہ رخصت ہونے والا سال 10.2 ملین کے ہدف کے مقابلے میں محض 5.6 ملین گانٹھوں کی معمولی پیداوار پر ختم ہوا۔ یہ کوئی اتفاقیہ ناکامی نہیں تھی بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری رجحان کا حصہ ہے۔ گزشتہ کئی سیزنز بشمول 25-2024، 24-2023 اور 23-2022 کے دوران پیداوار بارہا تاریخی سطح تک گری ہے جس نے سرکاری پالیسی کے دعووں اور کھیتوں کے اصل نتائج کے درمیان پائے جانے والے تضاد کو بے نقاب کر دیا ہے۔
اور جیسا کہ پی سی جی اے نے نشاندہی کی ہے، اس طرح کے عادی ضرورت سے زیادہ اندازے اور غیر حقیقت پسندانہ اہداف پوری ویلیو چین میں فیصلہ سازی کے عمل کو بگاڑ دیتے ہیں۔ جب مستند ڈیٹا کے بغیر تخمینے لگائے جاتے ہیں، جن میں اکثر سیٹلائٹ کے ذریعے کیے گئے جائزوں یا اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامعنی مشاورت کی کمی ہوتی ہے جو کہ عالمی سطح پر ایک معیاری عمل ہے تو یہ روئی کے درآمد کنندگان، ٹیکسٹائل برآمد کنندگان اور دیگر کاروباری اداروں کے لیے بے یقینی کی صورتحال پیدا کرتے ہیں جو سپلائی کے فرق اور قیمتوں کی حکمت عملی کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ اس متوقع غیر معمولی اضافے کا جواز پیش کرنے کے لیے کوئی مربوط راستہ موجود نہیں ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 40 لاکھ گانٹھوں کا اضافہ کسی خلا میں پیدا نہیں ہو سکتا، خاص طور پر جب بنیادی رکاوٹیں اب بھی اپنی جگہ مضبوطی سے موجود ہیں: یعنی ناقص بیجوں کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار میں جمود، زرعی مشینری کا کم استعمال اور ان دونوں خامیوں کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے کمزور پالیسی سپورٹ۔
شعبہ کپاس کا انحصار خاص طور پر روئی کے ہاتھوں سے چنائی پر ہے جو کہ محدود مشینی زراعت کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے کارکردگی متاثر ہورہی ہے اور آلودگی بڑھنے کے باعث پیداوار اور فائبر کی کوالٹی پر سمجھوتہ کرنا پڑرہا ہے۔ مزید برآں دہائیوں بعد کپاس کے بیج کی درآمد کی اجازت دیکر غیر معیاری بی ٹی سیڈ پر انحصار کم کرنے کی حالیہ کوششوں کے بارے میں خدشہ ہے کہ یہ بہت تاخیر سے کی گئی ہیں کیونکہ طریقہ کار کی سست روی کی وجہ سے ان بیجوں کی آمد بوائی کے سیزن کے بالکل آخری حصے تک پہنچ گئی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ درآمد شدہ بیج کو فی الحال سخت نگرانی میں کئی سالہ تجربات (ٹرائلز) تک محدود رکھا گیا جس کے بعد ہی اس کی تجارتی درآمد کی منظوری دی جا سکے گی، اس کا مطلب یہ ہے کہ کسانوں کو فوری طور پر اس کا کوئی ٹھوس فائدہ ملنے کا امکان نہیں ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ زیادہ پانی استعمال کرنے والی گنے کی فصل کے تباہ کن اثرات ہیں جو مسلسل کپاس کے روایتی علاقوں (کاٹن بیلٹس) پر قبضہ کر رہی ہے جس کا کپاس کی پیداوار پر انتہائی برا اثر پڑا ہے۔ قلیل مدتی منافع کی کشش جو ملک کی طویل مدتی معاشی ترجیحات کے متصادم ہے کی وجہ سے گنے نے کاشتکاری کے اہم علاقوں میں بتدریج کپاس کی جگہ لے لی ہے جس سے زمین اور پانی کے نایاب ذخائر اس فصل سے دور ہوگئے ہیں جو ٹیکسٹائل کی ویلیو چین اور برآمدی معیشت کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب میں نئی شوگر ملوں کے قیام کے منصوبے اس عدم توازن کو مزید گہرا کرنے کا خطرہ پیدا کر رہے ہیں حالانکہ ملک کے پاس پہلے ہی تقریباً 1.5 ملین ٹن چینی کا اضافی ذخیرہ موجود ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن پہلے ہی وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کو خط لکھ چکی ہے جس میں رحیم یار خان کے قریب مجوزہ نئی ملوں کے قیام کو روکنے پر زور دیا گیا ہے جو کبھی سالانہ 1.8 ملین گانٹھیں پیدا کرنے والا کپاس کا گڑھ تھا لیکن اب تیزی سے یہ مقام کھو رہا ہے اور اسی طرح پنجاب و سندھ کی سرحد کے ساتھ بھی نئی ملوں کی مخالفت کی گئی ہے۔ یہ سوال کہ آیا ان اپیلوں پر عمل درآمد ہوگا یا نہیں، اس کا جواب آسان نہیں ہے، کیونکہ اقتدار کے ایوانوں میں شوگر انڈسٹری کا اثرورسوخ بہت زیادہ ہے۔ تاہم اگر پاکستان کو اس فصل کا تحفظ کرنا ہے جس کی اسٹریٹجک اور معاشی اہمیت ناقابلِ تردید ہے تو بروقت مداخلت ناگزیر ہے۔
گزشتہ دو دہائیاں کپاس کی فصل کیلئے مسلسل زوال اور ضائع شدہ مواقع کی داستان رہی ہیں۔ سالانہ 14 سے 15 ملین گانٹھوں کی بلند ترین پیداوار سے لے کر آج بمشکل 5 ملین گانٹھوں تک کا سفربرسوں کی پالیسی سازی میں جمود اور غفلت کی عکاسی کرتا ہے جو اب ادارہ جاتی ناکامی کی حدوں کو چھورہا ہے۔ جب تک فصلوں کی ایسی زوننگ نافذ نہیں کی جاتی جو کپاس کے روایتی کاشتکاری کے علاقوں کا تحفظ کرے اور جب تک ایک مستند بحالی کا فریم ورک تیار نہیں ہوتا، تب تک پیداواری اہداف کا تعین کسی ٹھوس معاشی انتظام کے بجائے محض خوش فہمی پر مبنی مشق بن کر رہ جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026