تیل نرخ بڑھنے کا خدشہ، اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود برقرار رکھے جانے کا امکان، ماہرین تقسیم
- اسٹیٹ بینک جون 2024 سے اب تک مجموعی طور پر شرح سود میں 1150 بیسس پوائنٹس کی کمی کر چکا ہے
رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق توقع ہے کہ پاکستان کا مرکزی بینک اپنے آئندہ اجلاس میں بنیادی پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھے گا، تاہم بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ایران امریکہ تنازع کے باعث تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں تقریباً دو برس میں پہلی بار شرح سود میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔
سروے میں شامل 10 میں سے 6 تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسٹیٹ بینک پیر کو ہونے والے اجلاس میں شرح سود کو برقرار رکھے گا جبکہ تین نے 50 بیسس پوائنٹس اور ایک نے 100 بیسس پوائنٹس اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ ایک ایسی سخت مالیاتی تبدیلی ہوگی جو 2024 کے وسط میں شروع ہونے والے آسان پالیسی سائیکل سے پہلے نہیں دیکھی گئی تھی۔ اسٹیٹ بینک جون 2024 سے جب شرح سود 22فیصد کی ریکارڈ سطح پر تھی اب تک مجموعی طور پر 1150 بیسس پوائنٹس کی کمی کر چکا ہے اور آخری بار جنوری میں اس میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی گئی تھی۔
تیل کی قیمتوں کے اثرات سے غیر یقینی صورتحال
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود تاحال کوئی مستقل امن معاہدہ نہیں ہو سکا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں غیر مستحکم ہیں اور پاکستان کا درآمدی بل بڑھا ہوا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی شرح مارچ میں بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گئی، جو اسٹیٹ بینک کے مقررہ ہدف (5 سے 7 فیصد) سے تجاوز کر گئی ہے اور بعض ماہرین کے مطابق اپریل میں یہ 10 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 27 اپریل کو طلب کر لیا ہے۔ کے ٹریڈ کے ریسرچ ہیڈ فواد بشیر کا کہنا ہے کہ تیل کی بلند قیمتیں کمیٹی کو شرح سود بڑھانے پر مجبور کر سکتی ہیں،تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک احتیاطی اقدام ہوگا نہ کہ نئی سختی کا آغازہے۔
شرح سود برقرار رکھنے کے حامیوں کا موقف
وہ تجزیہ کار جو تبدیلی نہ کرنے کے حق میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں حالیہ اضافہ سپلائی کی وجہ سے ہے اور عارضی ہو سکتا ہے۔ جے ایس کیپیٹل کے مطابق اوسط مہنگائی 7.5 فیصد کے قریب رہے گی، لہٰذا بینک حالیہ دباؤ کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ عارف حبیب کی ریسرچ ہیڈ ثنا توفیق نے مارچ میں 1.07 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اور مستحکم روپے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پالیسی سخت کرنے سے معاشی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب آزاد تجزیہ کار عمار حبیب نے 50 بیسس پوائنٹس اضافے کی حمایت کی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت اس کا ہدف حقیقی شرح سود کو مثبت رکھنا ہے جبکہ آئی ایم ایف نے وقت سے پہلے پالیسی میں نرمی کے خلاف تنبیہ کر رکھی ہے۔