پاکستان

پاکستان نے بھارت کا پروپیگنڈا مسترد کر دیا، نئی دہلی سے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کا مطالبہ

  • بھارتی پروپیگنڈا مہم مقبوضہ کشمیر سے عالمی توجہ نہیں ہٹا سکتی، دفترِ خارجہ کا دوٹوک موقف
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے پہلگام واقعے سے متعلق بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے نئی دہلی پر زور دیا ہے کہ وہ داخلی سیاسی فوائد کے لیے جھوٹے بیانیے کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے بجائے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کرے۔

بھارت نے گزشتہ روز پہلگام حملے کی برسی کے موقع پر ایک بار پھر پاکستان پر اس حملے کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا۔ واضح رہے کہ 2025 میں اس واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف شدید پروپیگنڈا مہم شروع کی تھی اور پاکستان کے اندر بلا اشتعال حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں مئی 2025 میں دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان کئی روز تک جنگ جاری رہی تھی۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے، یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ بھارت نے ایک بار پھر پہلگام واقعے کی آڑ میں بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈے کا سہارا لیا ہے۔

دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق یہ بدقسمتی ہے کہ موجودہ علاقائی بحران کے دوران بھارت اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے پاکستان کے خلاف من گھڑت بیانیہ بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جبکہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے لیے مذاکرات کے ایک اور دور کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ سال بھارت کی مہم جوئی کا آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے بھرپور جواب دیا گیا تھا۔ حالیہ الزامات بھارت کی اس پرانی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد خطے میں دہشت گردی کی پشت پناہی سے توجہ ہٹانے کے لیے دھواں چھوڑنا ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ اس طرح کی پروپیگنڈا مہم عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے ناجائز قبضے اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دینے سے انکار سے نہیں ہٹا سکتی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے جیسے یکطرفہ اقدامات اور جارحانہ فوجی نقل و حرکت سے علاقائی امن کو مسلسل خطرے میں ڈال رہا ہے۔

پاکستان نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری بھارت کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے اور ان تمام اشتعال انگیز اقدامات سے باز رہنے کا کہے گی جو علاقائی و عالمی امن کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔