کاروبار اور معیشت

اسٹاک مارکیٹ میں خریداری کا رجحان واپس، 100 انڈیکس 950 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

  • کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک 100 انڈیکس173,155.79 پوائنٹس پر بند
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ملکی اور سیاسی محاذوں پر مثبت اشاروں کے باعث خریداری کا رحجان واپس آگیا جس کے نتیجے میں منگل کو 100 انڈیکس 950 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔

تفصیلات کے مطابق کے ایس ای-100 انڈیکس کا آغاز انتہائی مثبت رہا اور اس میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا جو دورانِ ٹریڈنگ 175,298.11 کی دن کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا۔

تاہم ابتدائی تیزی کے بعد مارکیٹ اس سطح کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار رہی۔ دوپہر کے وقت انڈیکس میں اچانک بڑی گراوٹ دیکھی گئی اور یہ دورانِ ٹریڈنگ 172,837.79 کی دن کی نچلی ترین سطح پر آ گیا۔

بعد ازاں مارکیٹ میں معمولی بحالی دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک 100 انڈیکس 959 پوائنٹس یا 0.56 اضافے سے 173,155.79 پوائنٹس پر بند ہوا۔

ایک اہم پیشرفت میں اسٹیٹ بینک نے منگل کو بتایا کہ اسے سعودی عرب کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول ہوگئے ہیں۔

بہتری کیپٹل کا کہنا ہے کہ اگرچہ صبح کا آغاز سفارتی بے یقینی کے سائے میں ہوا لیکن تازہ ترین لیکویڈٹی انڈیکس کو ایک مضبوط سہارا فراہم کررہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موصول ہونے والے ایک ارب ڈالر ایک بہت بڑی نفسیاتی اثر ہے جو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر دوبارہ مستحکم ہورہے ہیں۔

ایک ارب ڈالر کی تازہ نقد رقم کی آمد اور سعودی عرب کی جانب سے 2028 تک کی توسیع (رول اوور) کے ذریعے ہمارے ذخائر کے تحفظ کے بعد، مجموعی معاشی منظرنامہ سرخیوں میں نظر آنے والی صورتحال کے مقابلے میں کہیں زیادہ مستحکم ہے۔

یاد رہے کہ پیر کو اسٹاک ایکسچینج میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں میں محتاط رہنے کا رحجان غالب رہا۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 1,742 پوائنٹس کی مندی کے بعد 172,197 کی سطح پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر منگل کو ایشیا میں ٹریڈنگ کے آغاز پر حصص کی قیمتوں میں بہتری آئی کیونکہ مارکیٹوں نے ان رپورٹس سے حوصلہ حاصل کیا کہ ایران، پاکستان میں امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں شرکت پر غور کر رہا ہے جبکہ مصنوعی ذہانت میں نئی سرمایہ کاری نے طلب کو سہارا دیا۔

سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیڈرل ریزرو کی سربراہی کیلئے نامزد کردہ امیدوار کیون وارش کی سینیٹ میں ہونے والی توثیقی سماعت پر بھی لگی ہوئی ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے فیڈرل ریزرو پر شرح سود میں جلد اور جارحانہ کمی نہ کرنے کی وجہ سے بارہا تنقید کی جاتی رہی ہے۔

ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.9 فیصد بڑھ گیا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 2.1 فیصد اضافے کے ساتھ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار ایک نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ایس اینڈ پی 500 ای-منی فیوچرز میں 0.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 95.09 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

جاپان کا نکی 225 انڈیکس 1.2 فیصد بڑھ گیا جبکہ اس کے برعکس آسٹریلوی حصص میں 0.3 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان غیر مستحکم جنگ بندی اس وقت مزید تناؤ کا شکار ہوگئی جب امریکہ نے ایک ایرانی مال بردار جہاز کو قبضے میں لینے کا اعلان کیا جس پر تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ ایران نے ہفتے کے آخر میں کہا تھا کہ وہ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہیں کرے گا، تاہم بعد ازاں ایک اعلیٰ عہدیدار نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ملک اب بھی اسلام آباد میں متوقع مذاکرات میں اپنے وفود بھیج سکتا ہے۔

علاوہ ازیں منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ایک پیسے کی بہتری کے بعد 278.90 پر بند ہوئی۔

اسٹاک مارکیٹ میں آل شیئر انڈیکس پر تجارتی حجم (وولیم) گزشتہ سیشن کے 1,296.21 ملین شیئرز سے کم ہو کر 1,165.25 ملین رہ گیا۔ شیئرز کی مالیت میں بھی کمی دیکھی گئی جو گزشتہ سیشن کے 65.27 ارب روپے کے مقابلے میں 54.94 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔

مارکیٹ میں سینرجیکو پی کے 83.67 ملین شیئرز کے ساتھ پہلے، بینک آف پنجاب 82.48 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور پاکستان ریفائنری 67.57 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔ منگل کو مجموعی طور پر 489 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 279 کمپنیوں کی قیمتوں میں اضافہ، 165 میں کمی جبکہ 45 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت مستحکم رہی۔