بی آر ریسرچ

بیرونی سرمایہ کاری، ایک بہتر مہینہ مجموعی صورتحال ٹھیک نہیں کرسکتا

  • مالی سال 26 کے پہلے 9 ماہ میں مجموعی خالص ایف ڈی آئی 1.35 ارب ڈالر رہی
شائع April 20, 2026 اپ ڈیٹ April 20, 2026 11:16am

مارچ 2026 میں پاکستان کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آءی) کے اعداد و شمار بہتر دکھائی دیتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر سال اب بھی کمزور نظر آتا ہے۔ مارچ 2026 میں خالص ایف ڈی آئی 168 ملین ڈالر رہی، جو سالانہ 163 فیصد اضافہ ہے، تاہم یہ فروری کے 214 ملین ڈالر سے کم ہے۔ یہ ماہانہ بہاؤ میں بہتری ضرور ہے، لیکن اس سے کسی بڑی تبدیلی کا ثبوت نہیں ملتا۔

بڑا منظرنامہ اب بھی کمزور ہے۔ مالی سال 26 کے پہلے 9 ماہ میں مجموعی خالص ایف ڈی آئی 1.35 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد کم ہے۔ پاکستان کا ایف ڈی آئی مسئلہ اتار چڑھائو کا نہیں بلکہ ساختی ہے۔

پاکستان نے گزشتہ 26 سالوں میں مجموعی طور پر 52 ارب ڈالر کی ایف ڈی آئی حاصل کی ہے — یعنی اوسطاً سالانہ صرف 2 ارب ڈالر سے بھی کم، اور جی ڈی پی کے 0.45 فیصد سے بھی کم۔ یہ عالمی معیار (تقریباً 3 فیصد جی ڈی پی) سے بہت نیچے ہے۔

یہ فرق نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ بھارت سالانہ 70 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری حاصل کرتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش بھی 3.5 ارب ڈالر سے زائد لے لیتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ کمی معمولی نہیں بلکہ مسلسل ناکامی کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکا۔

موجودہ سرمایہ کاری کی ساخت بھی اسی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ چین اب بھی مرکزی کردار ادا کر رہا ہے اور سال کے دوران کل ایف ڈی آئی کا نصف سے زیادہ حصہ فراہم کر رہا ہے۔ دیگر ممالک سے آنے والی سرمایہ کاری کمزور ہے۔

مارچ میں بڑی سرمایہ کاری چین، ہانگ کانگ اور جاپان سے آئی، اور یہ زیادہ تر توانائی اور مالیاتی شعبے تک محدود رہی۔ پیٹرن تبدیل نہیں ہوا: سی پیک سے منسلک توانائی اور بینکاری شعبے ہی اعداد و شمار کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ متنوع اور برآمدی بنیادوں پر سرمایہ کاری اب بھی غائب ہے۔

بیرونی کھاتے کی صورتحال اصل سے بہتر دکھائی دیتی ہے۔ مارچ میں 1.1 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ ہوا، جس کی بڑی وجہ موسمی ترسیلات زر (3.8 ارب ڈالر) تھیں۔ لیکن مالی سال 26 کے پہلے 9 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ تقریباً فلیٹ ہے۔ درآمدات بڑھ رہی ہیں، برآمدات کم ہو رہی ہیں، اور تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔

ترسیلات زر اب بھی سہارا دے رہی ہیں، لیکن یہ بڑی حد تک خلیجی ممالک پر منحصر ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ درآمدی بل بڑھنے کا امکان ہے، جس سے اپریل اور مئی میں کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر بھی اب بھی کمزور ہیں، کیونکہ زیادہ تر سہارا دوست ممالک کے ڈپازٹس اور رول اوورز سے آ رہا ہے، نہ کہ مضبوط برآمدات یا سرمایہ کاری سے۔

ایک ایسا ملک جو مستحکم برآمدی ترقی پیدا نہ کر سکے یا مستقل سرمایہ کاری نہ کھینچ سکے، بالآخر بیرونی کھاتے کو چلانے کے لیے قرض اور ترسیلات زر پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال اسی انحصار کی عکاسی کرتی ہے، نہ کہ حقیقی بیرونی مضبوطی کی۔ یہ کوئی پائیدار توازن نہیں ہے، اور عالمی سرمایہ کار اسے بخوبی سمجھتے ہیں۔

پاکستان کی کمزور ایف ڈی آئی کی وجوہات سمجھنا مشکل نہیں۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہوتا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی ڈالر میں ان کے منافع کو کم کر دے گی۔

ٹیکس پالیسیز اور مراعات بار بار تبدیل ہوتی ہیں، اکثر ہر سیاسی دور میں ایسا ہوتا ہے۔ کاروباری ماحول بھی مشکل ہے: زیادہ بیوروکریسی، غیر واضح قواعد، کمزور معاہداتی نفاذ، غیر مستحکم توانائی سپلائی، ناقص لاجسٹکس، اور زمین سے متعلق حل طلب مسائل۔

سب سے واضح اشارہ یہ ہے کہ کون سی کمپنیاں ملک چھوڑ رہی ہیں۔ جب شیل، مائیکروسافٹ، اوبر، یاماھا، ایلی للی، پراکٹر اینڈ گیمبل، اور ٹیلی نار جیسی کمپنیاں یا تو نکل جاتی ہیں یا اپنی موجودگی کم کر دیتی ہیں، تو یہ کسی بھی سرکاری سرمایہ کاری مہم سے زیادہ اہم پیغام دیتا ہے۔ جب پہلے سے مارکیٹ میں کام کرنے والی کمپنیاں پیچھے ہٹتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ خطرات عارضی نہیں بلکہ گہرے اور ساختی ہیں۔

قریب المدت منظرنامہ بھی اس تصویر کو زیادہ تبدیل نہیں کرتا۔ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی — جو ترسیلات زر اور معاشی روابط کا اہم ذریعہ ہے — مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ تیل کی بلند قیمتوں اور بیرونی سہارا رول اوورز پر انحصار کے ساتھ، قریبی مدت میں ایف ڈی آئی کی مضبوط بحالی کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی۔

موجودہ رفتار کے مطابق پاکستان مالی سال 26 کے آخر تک تقریباً 1.9 ارب ڈالر ایف ڈی آئی پر ختم کرے گا، جو گزشتہ سال سے کم اور اس سطح سے بہت دور ہے جو ترقی کو سہارا دے سکے۔ مارچ بہتر تھا، لیکن یہ ایک کمزور سال میں صرف ایک بہتر مہینہ تھا، نہ کہ کسی نئے رجحان کا آغاز۔