آبنائے ہرمز دوبارہ بند، خام تیل کی قیمتوں میں 6 فیصد اضافہ
- برینٹ کروڈ کی قیمت 5.51 ڈالر یا 6.1 فیصد اضافے کے ساتھ 95.89 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی
آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکہ ایران کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں پیر کے روز قیمتیں 5 فیصد سے زائد بڑھ گئیں۔ یہ اضافہ جمعہ کو ہونے والی 9 فیصد سے زائد کمی کے بعد سامنے آیا، جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بحری جہازوں پر حملوں کا الزام عائد کیا تھا۔
برینٹ کروڈ کی قیمت 5.51 ڈالر یا 6.1 فیصد اضافے کے ساتھ 95.89 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 5.46 ڈالر یا 6.5 فیصد اضافے کے بعد 89.31 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ اتار چڑھاؤ خطے میں غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایک ایرانی کارگو جہاز کو قبضے میں لیا جو ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ ایران نے امریکی دھمکیوں کے بعد امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے، جبکہ ایران نے بھی آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند اور کھولنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی تھی، اس تنازع کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے۔ ماہر توانائی ساؤل کاوونک کے مطابق تیل کی منڈیاں زمینی حقائق کے بجائے امریکہ اور ایران کے بیانات پر زیادہ ردعمل دے رہی ہیں، جس سے غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے ایران اور امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے دعوے قبل از وقت ثابت ہوئے، جس کے باعث شپ مالکان اب محتاط ہو گئے ہیں اور مکمل یقین دہانی کے بغیر اس راستے کا رخ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
ادھر ہفتے کے روز 20 سے زائد بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو یکم مارچ کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔ دوسری جانب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں 2027 تک 3 ڈالر فی گیلن سے زائد رہ سکتی ہیں۔