کاروبار اور معیشت

وزیرِخزانہ کی سعودی فنڈ کے سربراہ سلطان بن عبدالرحمان المرشد اور امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر سے ملاقاتیں

  • محمد اورنگزیب کا سعودی فنڈ برائے ترقی کی جانب سے تعاون اور آئندہ ترقیاتی شراکت داری پر اظہار تشکر
شائع April 14, 2026 اپ ڈیٹ April 14, 2026 12:03pm

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر سعودی فنڈ برائے ترقی (ایس ایف ڈی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان بن عبدالرحمان المرشد اور امریکی تجارتی نمائندے سفیر جیمیسن گریر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق وزیرخزانہ نے سلطان بن عبدالرحمن المرشد سے ملاقات کے دوران سعودی فنڈ برائے ترقی کی جانب سے پاکستان کے لیے جاری تعاون اور آئندہ ترقیاتی شراکت داری پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

محمد اورنگزیب نے واشنگٹن روانگی سے قبل سعودی عرب کے وزیر خزانہ سے اپنی حالیہ ملاقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ ملاقات نہایت مفید رہی۔

دونوں جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازع کے عالمی توانائی کی سلامتی پر اثرات اور اس کے ممکنہ معاشی نتائج پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرخزانہ نے اس تنازع کے جلد حل کی امید ظاہر کی۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور دیرینہ شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور اقتصادی و ترقیاتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیرِ خزانہ کی امریکی تجارتی نمائندہ سے ملاقات، باہمی تجارت کے فروغ پر تبادلہ خیال

دریں اثنا وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی تجارتی نمائندہ سفیر جیمیسن گریر سے بھی ملاقات کی۔

انہوں نے پاک امریکہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور پائیدار اقتصادی شراکت داری کے فروغ کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران دونوں جانب سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے کیلئے تعمیری گفتگو کی گئی جس میں برآمدات کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو وسعت دینے، سرمایہ کاری کے بہاؤ میں سہولت کاری اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو مزید گہرا کرنے کے مواقع تلاش کرنے پر غور کیا گیا۔

دونوں اطراف نے جاری تجارتی مذاکرات میں مسلسل پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور دوطرفہ اقتصادی روابط میں مثبت رفتار کا اعتراف کیا۔

انہوں نے تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا، جس کا مرکز باہمی طور پر فائدہ مند نتائج کا حصول اور طویل مدتی معاشی ترقی کی حمایت ہے۔