کاروبار اور معیشت

پاکستانی معیشت مستحکم، خطرات برقرار، ایشیائی ترقیاتی بینک

  • توقع ہے کہ شرحِ نمو میں اضافے کا یہ سلسلہ 2026 اور 2027 میں بھی جاری رہے گا، رپورٹ
شائع اپ ڈیٹ

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے جمعہ کو کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہوچکی ہے اور اس میں مضبوط رفتار کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں تاہم منفی اثرات کے خطرات اب بھی موجود ہیں۔

اے ڈی بی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مالی سال 2025 (جو 30 جون 2025 کو ختم ہوا) کے دوران پاکستان کی معیشت بحال ہوئی کیونکہ شرحِ نمو میں استحکام آیا اور افراطِ زر (مہنگائی) میں کمی واقع ہوئی۔ اس بہتری کی بنیاد سخت میکرو اکنامک پالیسیاں اور معاشی اصلاحات میں ہونے والی پیشرفت تھی۔

ایشیائی ڈیولپمنٹ آؤٹ لک (اپریل 2026) کے مطابق پاکستان کی معیشت سے توقع ہے کہ وہ درمیانی مدت میں اپنی کارکردگی کو برقرار رکھے گی۔

مینوفیکچرنگ میں بحالی اور سرمایہ کاری میں اضافے کی بدولت، حقیقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو مالی سال 2025 کے 3.1 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 3.5 فیصد اور مالی سال 2027 میں 4.5 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ایما فین نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہوچکی ہے اور اس نے مضبوط رفتار دکھانا شروع کر دی ہے، جس کی بنیاد عالمی سطح کے مشکل حالات کے باوجود کلیدی معاشی اصلاحات پر عملدرآمد میں ہونے والی پیش رفت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ توقع ہے کہ شرحِ نمو میں اضافے کا یہ سلسلہ 2026 اور 2027 میں بھی جاری رہے گا، لیکن منفی اثرات کے خطرات اب بھی اہم ہیں۔ معاشی ترقی کی اس رفتار کو برقرار رکھنے اور عالمی جھٹکوں کے خلاف مالیاتی و بیرونی ذخائر کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کی مسلسل کوششیں ناگزیر ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کا طویل ہوتا ہوا تنازع پاکستان کے معاشی منظرنامے پر نمایاں منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ یہ تنازع توانائی اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے شرحِ نمو کو سست، زراعت و صنعت کی پیداوار کو کمزور، ترسیلاتِ زر میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے لہٰذا معاشی استحکام کو مضبوط بنانے اور پائیدار و ہمہ گیر ترقی کے حصول کے لیے اکنامک ایڈجسٹمنٹ پروگرام پر سختی سے کاربند رہنا ناگزیر ہے۔

رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے تیل کی بڑھتی قیمتوں اور تجارتی راستوں میں خلل کے باعث اوسط مہنگائی مالی سال 2026 میں 6.4 فیصد اور مالی سال 2027 میں 6.5 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک سے توقع ہے کہ وہ مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف کی حد میں مستحکم رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی میں محتاط نرمی کرے گا۔

مالی سال 2026 میں معاشی شرحِ نمو کو نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں بحالی سے مدد ملے گی جس کی وجہ حالیہ اصلاحاتی اقدامات میں ہونے والی پیش رفت اور زرمبادلہ کی مستحکم مارکیٹ ہے۔

اصلاحاتی پروگرام پر مؤثر عملدرآمد سے ایک مستحکم میکرو اکنامک ماحول پیدا ہونے اور ترقی کی راہ میں حائل ساختی رکاوٹوں کے بتدریج خاتمے کی توقع ہے۔

مانیٹری پالیسی میں نرمی سے صنعت و خدمات دونوں شعبوں میں معاشی سرگرمیوں کو فائدہ پہنچے گا جبکہ تعمیراتی شعبے کو مالی سال 2026 کے بجٹ میں دی گئی مراعات اور سیلاب کے بعد کی بحالی کی کوششوں سے مدد ملے گی۔

حالیہ استحکام اور بحالی کے باوجود پاکستان کے معاشی منظرنامے کو عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال سے نمایاں خطرات لاحق ہیں جو افراطِ زر، مالیاتی اور بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھاسکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے محتاط میکرو اکنامک پالیسیوں اور ساختی اصلاحات پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد ضروری ہے۔