دنیا

برطانیہ کا آبنائے ہرمز پر ٹول فری گزرگاہ کا مطالبہ، لبنان میں بھی جنگ بندی پر زور

  • یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ سے قبل آبنائے ہرمز کو ایک بین الاقوامی آبی راستہ تصور کیا جاتا تھا
شائع اپ ڈیٹ

برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری تجارت پر کوئی ٹول ٹیکس عائد نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ عالمی آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً20 فیصد حصے کے تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اس اہم راستے پر جہازوں سے فیس وصول کرنے کی تجویز دے رہا ہے۔

لندن میں اپنی سالانہ خارجہ پالیسی تقریر کے دوران ایویٹ کوپر اس بات پر زور دیں گی کہ سمندری راستوں کی بنیادی آزادیوں کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی انہیں کسی مخصوص فریق کے لیے محدود کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر ٹول کا کوئی جواز نہیں، اور آزادیٔ جہازرانی کا مطلب یہی ہے کہ یہ مکمل طور پر آزاد ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ سے قبل آبنائے ہرمز کو ایک بین الاقوامی آبی راستہ تصور کیا جاتا تھا۔ دوسری جانب عالمی رہنماؤں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حالیہ دو ہفتوں کی جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے۔

ادھر اسرائیل نے بدھ کے روز لبنان پر اپنے اب تک کے سب سے بڑے حملے کیے، جن میں ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ کو نشانہ بنایا گیا۔