مارکٹس

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

  • برینٹ خام تیل کی قیمت 1.71 ڈالر اضافے کے ساتھ 110.74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
شائع April 6, 2026 اپ ڈیٹ April 6, 2026 09:08am

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث سپلائی میں ممکنہ کمی کے خدشات ہیں۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 1.71 ڈالر اضافے کے ساتھ 110.74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 0.71 ڈالر بڑھ کر 112.25 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

گزشتہ جمعرات، جو گڈ فرائیڈے کی تعطیلات سے قبل آخری تجارتی دن تھا، تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ اس دوران ڈبلیو ٹی آئی میں 11 فیصد سے زائد جبکہ برینٹ میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 2020 کے بعد سب سے بڑا اضافہ تھا۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف حملے جاری رکھنے کے اعلان کو قرار دیا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز، جو عراق، سعودی عرب، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات سے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، ایران کی جانب سے جہاز رانی پر حملوں کے بعد بڑی حد تک بند ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے اور ریفائنریز کو متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے، خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ کے نارتھ سی کے علاقوں سے خام تیل کی خریداری میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی صدر نے اتوار کے روز ایک سخت بیان میں ایران کو دھمکی دی کہ اگر آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا گیا تو ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ دوسری جانب، ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی حکام سے ممکنہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں، جس سے جنگ بندی کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔

اوپیک پلس نے مئی کے لیے یومیہ 206,000 بیرل اضافے کا اعلان کیا ہے، تاہم جنگ کے باعث کئی ممالک اس اضافے پر عملدرآمد سے قاصر ہیں۔ اسی دوران روس کی تیل سپلائی بھی یوکرینی ڈرون حملوں سے متاثر ہوئی، اگرچہ اس کا اہم برآمدی ٹرمینل جزوی طور پر بحال ہو چکا ہے۔