کاروبار اور معیشت

پاکستان نے ایران کو ٹی آئی آر کارگو ہینڈلنگ کی مکمل تیاری سے آگاہ کردیا

  • ٹرانزٹ انٹرنیشنل روٹیئرز (ٹی آئی آر) کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کے عمل کو تیز کر دیا گیا ہے
شائع March 30, 2026 اپ ڈیٹ March 30, 2026 10:00am

پاکستان نے ایران حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ اور ٹرانزٹ انتظامات کے تحت کارگو ہینڈل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، جبکہ ٹرانزٹ انٹرنیشنل روٹیئرز (ٹی آئی آر) کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کے عمل کو تیز کر دیا گیا ہے تاکہ اقوام متحدہ کے ٹی آئی آر کنونشن اور ٹی آئی آر رولز 2017 کے تحت نامزد مقامات تک سامان کی ہموار ترسیل یقینی بنائی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایرانی سفارتکاروں کو اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تمام متعلقہ بین الاقوامی فریم ورکس کے تحت ٹرانس شپمنٹ آپریشنز میں مکمل سہولت فراہم کی جائے گی۔

سرکاری حکام نے بتایا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے ٹی آئی آر کنونشن کا دستخط کنندہ ملک ہے اور 2017 سے اس نظام پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ حال ہی میں بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ نظام پر نظرثانی کی گئی ہے اور پاکستان کے ذریعے سامان کی ترسیل کے دائرہ کار کو بندرگاہوں سے بڑھا کر آف ڈاک ٹرمینلز تک توسیع دی گئی ہے تاکہ عالمی تجارت کو مزید سہولت دی جا سکے۔

حکام کے مطابق پاکستان کسٹمز کی حالیہ اصلاحات اور نئے ریگولیٹری فریم ورک کے بعد اب بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ یا ٹی آئی آر کے تحت کارگو پاکستان کے راستے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گوادر، کراچی اور پورٹ قاسم کی بندرگاہوں کے ساتھ ساتھ سوست، تفتان اور گبد/بی پی 250 جیسے بارڈر اسٹیشنز کو بھی اس مقصد کے لیے فعال کر دیا گیا ہے۔ ٹرانس شپمنٹ کارگو بندرگاہوں اور آف ڈاک ٹرمینلز پر جبکہ ٹی آئی آر کنسائنمنٹس پورٹس اور بارڈر اسٹیشنز دونوں جگہوں پر ہینڈل کیے جا رہے ہیں۔

ایرانی سفارتکاروں کو مزید بتایا گیا کہ گوادر بندرگاہ جدید سہولیات سے آراستہ ہے اور بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ اور ٹی آئی آر کارگو کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ پی این سی آئی سی سی پاکستان نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کے متعدد کسٹمز اسٹیشنز پہلے ہی آئی آر یو نظام سے منسلک ہیں۔

پاکستانی بارڈر اسٹیشنز کے کسٹمز حکام نے نشاندہی کی کہ ایران کے میر جاوے اور ریمدان کسٹمز اسٹیشنز ٹی آئی آر کارگو ہینڈلنگ کے لیے فعال ہیں تاہم ایرانی حکام نے ابھی تک ریمدان پر آئی آر یو کے ای ٹی آئی آر ماڈیول کی اپڈیٹ نہیں کی۔ اس دوران ٹی آئی آر کنسائنمنٹس کو گبد/بی پی 250 کے ذریعے دیگر فعال اسٹیشنز تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستانی حکام بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ اور ٹرانزٹ انتظامات کے تحت کارگو ہینڈلنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور بندرگاہوں و بارڈر اسٹیشنز پر طریقہ کار کو مزید ہموار کر دیا گیا ہے تاکہ اقوام متحدہ کے ٹی آئی آر کنونشن اور ٹی آئی آر رولز 2017 کے مطابق سامان کی مقررہ مقامات تک آسان ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026