ای سی سی: وزیراعظم کے کفایت شعاری فنڈ 2026 کے لیے 100 ارب روپے کے ٹی ایس جی کی منظوری
- پٹرولیم قیمتوں میں فرق پورا کرنے اور صارفین کو اتار چڑھاؤ سے بچانے کے لیے پی ایس ڈی پی وسائل متحرک کیے جائیں
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعرات کو وزارتِ خزانہ کی جانب سے پیش کردہ سمری کی منظوری دے دی جس میں وزیراعظم کے کفایت شعاری فنڈ 2026 کے لیے 100 ارب روپے کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ ( ٹی ایس جی ) کی درخواست کی گئی تھی۔
ای سی سی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق ای سی سی نے وزارتِ خزانہ کی جانب سے پیش کردہ سمری پر غور کرتے ہوئے 100 ارب روپے کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی جسے وزیراعظم کے کفایت شعاری فنڈ 2026 میں منتقل کیا جائے گا۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ خلیجی خطے میں بدلتی صورتحال اور اس کے بین الاقوامی پٹرولیم قیمتوں پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام ( پی ایس ڈی پی) کے وسائل کو متحرک کیا جائے تاکہ پٹرولیم قیمتوں میں فرق پورا کیا جاسکے اور صارفین کو قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اجلاس کے دوران ای سی سی نے نوٹ کیا کہ مجوزہ فنڈز کی فراہمی مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے پی ایس ڈی پی فنڈز کی عقلی ترتیبِ نو اور سرنڈر کے ذریعے کی جا رہی ہے جس کی رابطہ کاری پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ اسپیشل انیشی ایٹو ڈویژن نے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران سے مشاورت کے ساتھ کی۔
اس بات پر زور دیا گیا کہ فنڈز کی ازسرِ نو تقسیم اس طرح کی گئی ہے کہ ترجیحی اور بہتر کارکردگی والے منصوبوں پر کم سے کم اثر پڑے، جبکہ مطلوبہ مالی گنجائش بھی پیدا کی جا سکے۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ابتدائی سرنڈرز پہلے ہی موصول ہو چکے ہیں جبکہ باقی ایڈجسٹمنٹس کو حتمی شکل دی جا رہی ہے تاکہ مجموعی ضرورت پوری کی جا سکے۔
ای سی سی نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پیش کردہ ایک اور سمری پر بھی غور کیا، جس میں عبوری قومی گندم پالیسی ( آئی این ڈبلیو پی) 2025-26 کے تحت نجی شعبے کی شراکت سے وفاقی اسٹریٹجک ذخائر کے لیے گندم کی خریداری کی تجویز دی گئی تھی۔
کمیٹی کو موجودہ طلب و رسد کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا، جس میں پیداوار کے تخمینے، بدلتے موسمی حالات، اور سرکاری و نجی ذخائر کی موجودہ سطح شامل تھی۔
یہ نوٹ کیا گیا کہ اگرچہ اندازے بہتر فصل کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کے پیش نظر مناسب ذخائر برقرار رکھنے کے لیے محتاط اور مرحلہ وار حکمتِ عملی ضروری ہے۔
بیان کے مطابق غور و خوض کے دوران ای سی سی نے مارکیٹ کے استحکام، کسانوں کی معاونت اور مالی پہلوؤں میں توازن قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ ایسے قبل از وقت اقدامات سے گریز کی ہدایت کی گئی جو مارکیٹ کے سگنلز کو متاثر کریں یا غیر یقینی صورتحال پیدا کریں۔
کمیٹی نے اسٹریٹجک اور کمرشل ذخائر میں واضح فرق رکھنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، اور اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ خریداری کے فیصلے حقیقی ضرورت کے مطابق ہوں اور غیر ضروری مالی یا ذخیرہ جاتی بوجھ نہ ڈالیں۔
ای سی سی نے نجی شعبے کے ذریعے شفاف اور مسابقتی عمل کے تحت 10 لاکھ میٹرک ٹن تک گندم کی خریداری کی منظوری دی، جبکہ ہدایت کی کہ مالی اثرات، قیمتوں کے تعین کے پیمانے اور آپریشنل طریقہ کار سمیت اہم پہلوؤں کو وزارتِ خزانہ سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ خریداری کی سطح اور مالی وعدوں کو لچکدار رکھا جائے اور انہیں تازہ فصل کے تخمینوں اور مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق ڈھالا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، اور وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے ورچوئل شرکت کی، جبکہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور سینئر حکام بھی شریک ہوئے۔