دنیا

آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی اہمیت، امریکی صدر اور بھارتی وزیر اعظم کا تبادلہ خیال

  • بھارت کشیدگی میں فوری کمی اور بحالی امن کی حمایت کرتا ہے
شائع March 25, 2026 اپ ڈیٹ March 25, 2026 01:20am

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز فون پر بات کی اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی اہمیت سمیت مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ بات بھارت میں امریکی ایلچی سرجیو گور اور مودی نے ایکس پر الگ الگ پوسٹس میں کہی ہے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مربوط حملوں کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔

مودی نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ ” بھارت کشیدگی میں فوری کمی اور امن کی بحالی کی حمایت کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے، محفوظ اور قابل رسائی ہونے کو یقینی بنانا پوری دنیا کے لیے ضروری ہے۔“

اس تنازع نے شہری ہوابازی سے لے کر شپنگ اور گیس سپلائی کے شعبوں کو متاثر کیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کا تقریباً بند ہو جانا بھی شامل ہے، جو بھارت کے خام تیل کی 40 فیصد درآمدات کے لیے اہم راستہ ہے۔

مودی نے پیر کو پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ اس بحران نے بھارت کے لیے بے مثال چیلنجز پیدا کیے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بھارتی معیشت کے بنیادی ڈھانچے مضبوط ہیں اور ملک کے پاس تجارتی اور توانائی کے خلل کا مقابلہ کرنے کے لیے پیٹرولیم، کھاد اور کوئلے کی مناسب دستیابی موجود ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے ٹرمپ اور مودی کے درمیان رابطے کی تصدیق کی، لیکن اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ کس موضوع پر بات ہوئی۔