ایران کے جنوبی پارس فیلڈ پر حملے کے بعد برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں اضافہ
- بدھ کو 1321 جی ایم ٹی تک برینٹ فیوچرز 4.53 ڈالر یا 4.4 فیصد اضافے کے ساتھ 107.95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بدھ کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس سے خطے میں توانائی سپلائی میں مزید خلل کے خدشات بڑھ گئے۔ یہ دھمکیاں ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کے ردعمل میں دی گئیں۔
ایران تنازع میں کشیدگی کم ہونے کے کوئی آثار نہ ہونے کے باعث برینٹ فیوچرز گزشتہ چار سیشنز سے 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں۔ بدھ کو 1321 جی ایم ٹی تک برینٹ فیوچرز 4.53 ڈالر یا 4.4 فیصد اضافے کے ساتھ 107.95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ دورانِ سیشن یہ 108.60 ڈالر کی بلند ترین سطح تک بھی گئے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی قیمت بھی 1.91 ڈالر یا 2 فیصد اضافے کے ساتھ 98.12 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
ایس ای بی کے تجزیہ کار اولے ہوالبیے کے مطابق ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملوں نے تیل اور گیس کی قیمتوں کو اوپر دھکیلا ہے، اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق اسالوئیہ ریفائنری میں کچھ ٹینکس اور گیس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
عراق سے برآمدات کی بحالی
عراق میں نارتھ آئل کمپنی کے ذرائع کے مطابق بغداد اور کردستان ریجنل گورنمنٹ کے درمیان معاہدے کے بعد پائپ لائن کے ذریعے برآمدات دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ حکام کے مطابق کم از کم 100,000 بیرل روزانہ برآمد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم، ایم یو ایف جی کے تجزیہ کار سوجن کم کے مطابق سپلائی میں ریلیف محدود ہے کیونکہ عراق کی پیداوار بحران سے پہلے کی سطح کے تقریباً ایک تہائی تک رہ گئی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ٹینکر ٹریفک بھی تاحال محدود ہے۔
عراق کے جنوبی آئل فیلڈز، جہاں سے زیادہ تر تیل پیدا اور برآمد ہوتا ہے، میں پیداوار 70 فیصد کم ہو کر 1.3 ملین بیرل روزانہ رہ گئی ہے، کیونکہ ایران تنازع نے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز کو متاثر کیا، جہاں سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔
لیبیا میں متبادل راستے
ادھر لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن کے مطابق شرارہ آئل فیلڈ سے بہاؤ کو آگ لگنے کے بعد متبادل پائپ لائنز کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے۔
امریکی فوج نے بتایا کہ اس نے ایران کے ساحلی علاقوں میں آبنائے ہرمز کے قریب اہداف کو نشانہ بنایا کیونکہ ایرانی اینٹی شپ میزائل عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔ ایران نے بھی تصدیق کی کہ اس کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے۔
کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق ان پیش رفتوں سے تنازع کے جلد ختم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم مجموعی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
دوسری جانب، امریکی خام تیل کے ذخائر 13 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے میں 6.56 ملین بیرل بڑھ گئے، جو مارکیٹ توقعات سے کہیں زیادہ ہیں۔