کاروبار اور معیشت

آٹو سیکٹر میں کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرنے اور مقابلے کی فضا بنانے کا مطالبہ

  • ، کمپٹیشن کمیشن کی جامع رپورٹ، آٹو موبائل صنعت میں ریگولیٹری اصلاحات اور گاڑیوں کی فنانسنگ بہتر بنانے کی سفارش
شائع اپ ڈیٹ

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے ملک کے آٹو موبائل سیکٹر میں بڑے پیمانے پر ساختی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دہائیوں پر محیط حفاظتی تعاون کے باوجود ریگولیٹری خامیاں،مارکیٹ میں داخلے کی بلند رکاوٹیں اور پالیسیوں میں عدم تسلسل مقابلے کی فضا کو دبانے اور صارفین کے فوائد کو محدود کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔

سی سی پی نے ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے جس کا عنوان منصفانہ مقابلے کی راہ ،پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کا مطالعہ ہے۔ اس رپورٹ میں شعبے کے ساختی اور ریگولیٹری چیلنجز پر روشنی ڈالی گئی ہے اور وسیع پیمانے پر اصلاحات کی سفارش کی گئی ہے، جن میں ایک طویل مدتی پالیسی روڈ میپ، گاڑیوں کی فنانسنگ میں بہتری اور کارکردگی و مقابلے کو فروغ دینے کے لیے ریگولیٹری بگاڑ کا خاتمہ شامل ہے۔

آٹو موبائل انڈسٹری پاکستان کی معیشت کا ایک سنگ میل ہے، جو جی ڈی پی میں تقریباً 2.8 فیصد حصہ ڈالتی ہے اور 2 لاکھ 15 ہزار سے زائد افراد کو براہ راست روزگار فراہم کر رہی ہے۔ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کے ایک اہم حصے کے طور پر یہ صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی سطح پر قدر میں اضافے، بالخصوص مسافر گاڑیوں اور ابھرتی ہوئی الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

سی سی پی کے مطالعے کے مطابق مسلسل پالیسی مداخلتوں کے باوجود مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ داخلے کی بلند رکاوٹوں، بھاری سرمائے کی ضروریات اور ریگولیٹری پیچیدگیوں کی وجہ سے اب بھی انجن کی مخصوص کیٹیگریز تک محدود ہے۔ اگرچہ ماضی کی حفاظتی پالیسیوں نے مقامی مینوفیکچرنگ قائم کرنے میں مدد دی لیکن طویل مدتی ٹیرف تحفظات اور لوکلائزیشن کے اقدامات برآمدات میں اضافے یا بہتر مسابقتی نتائج میں مستقل طور پر تبدیل نہیں ہو سکے۔

رپورٹ میں ریگولیٹری ڈھانچے میں بکھراؤ، اداروں کے دائرہ اختیار میں مداخلت اور پالیسیوں میں عدم تسلسل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کو متاثر کر رہے ہیں۔ اگرچہ سابقہ آٹو پالیسیوں کا مقصد لوکلائزیشن میں اضافہ، نئے اداروں کو راغب کرنا اور برآمدات کو فروغ دینا تھا لیکن ساختی سختیوں، پالیسیوں کی واپسی (پالیسی ریورسل) اور کمزور عملدرآمد نے ان کی افادیت کو محدود کر دیا۔

گاڑیوں کی قیمتوں تک رسائی کے مسائل حل کرنے اور طلب بڑھانے کے لیے سی سی پی نے سفارش کی ہے کہ فنانسنگ پر عائد پابندیوں پر نظرثانی کی جائے اور مالیاتی ریگولیٹرز کے تعاون سے پہلی بار گاڑی خریدنے والوں کے لیے ٹارگٹڈ اور رعایتی اسکیمیں متعارف کرائی جائیں۔

مطالعہ الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کی جانب مربوط منتقلی کی ضرورت پر بھی زور دیتا ہے اور نوٹ کرتا ہے کہ چارجنگ انفرااسٹرکچر کی کمی، مقامی پیداواری صلاحیت کی محدودیت اور ایندھن پر مبنی بجلی پر انحصار اس راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اس میں زور دیا گیا ہے کہ ای وی ایکو سسٹم میں طویل مدتی نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مستقل پالیسی اور انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

رپورٹ میں گاڑیوں کو تلف کرنے (اسکریپج) اور مرحلہ وار ختم کرنے کی جامع پالیسی کی عدم موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور سفارش کی گئی ہے کہ پرانی اور زیادہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کو ہٹانے کے لیے ایک منظم اسکیم شروع کی جائے، تاکہ ماحولیاتی تحفظ، سڑکوں کی حفاظت اور نئی گاڑیوں کی طلب میں اضافہ ہو سکے۔

سی سی پی نے مقامی وینڈرز کی ترقی کے لیے شفاف اور غیر امتیازی لوکلائزیشن پالیسیوں کا مطالبہ بھی کیا ہے، تاکہ صنعتی روابط مضبوط ہوں اور پاکستان کا آٹو سیکٹر عالمی سپلائی چین کا حصہ بن سکے۔

مارکیٹ میں سب کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے کمیشن نے سفارش کی ہے کہ غیر ضروری حفاظتی مراعات کو بتدریج منطقی بنایا جائے، ریگولیٹری عدم توازن دور، سرمایہ کاری، جدت اور کارکردگی کی حوصلہ افزائی کے لیے مستحکم اور مقابلے کے حق میں پالیسیاں اپنائی جائیں۔

سی سی پی نے نوٹ کیا کہ ایک مسابقتی آٹو موبائل صنعت صارفین اور معیشت کو نمایاں فوائد پہنچا سکتی ہے، جن میں کم قیمتیں، بہتر معیار، انتخاب کے وسیع مواقع اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ شامل ہے۔ کمیشن نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مطالعہ پالیسی سازوں اور اسٹیک ہولڈرز کی رہنمائی کرے گا، تاکہ پاکستان میں ایک جدید اور عالمی سطح پر مربوط آٹو سیکٹر ترقی کر سکے۔