کھیل

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستان کرکٹ کی خامیوں کا اعتراف

  • فارم سے باہر بابر اعظم کو کھلانے پر پاکستان کے اصرار نے ان کی لڑکھڑاتی ہوئی بیٹنگ لائن کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا
شائع اپ ڈیٹ

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے جلد اخراج نے پاکستان کرکٹ کے فرسودہ نظام اور جدید تقاضوں سے دوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ کپتان سلمان آغا کی کمزور قیادت، سست بیٹنگ ریٹ اور اوسط درجے کے آل راؤنڈرز پر انحصار نے ٹیم کو عالمی معیار سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔ سابق کرکٹر کامران اکمل کے مطابق دیگر ٹیمیں چاند پر پہنچ چکی ہیں جبکہ پاکستان ابھی تک زمین پر جدوجہد کر رہا ہے۔

ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف کامیابی کے باوجود میگا ایونٹ میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا غلط فیصلہ اور اہم اسپنر عثمان طارق کو باؤلنگ دینے میں تاخیر شکست کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ باسط علی اور کامران اکمل نے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی حکمتِ عملی اور سلیکٹرز کی پسند و ناپسند کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

سب سے زیادہ بحث بابر اعظم کی فارم اور سست بیٹنگ پر ہوئی، جنہوں نے نمبر چار پر بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کا ردھم متاثر کیا۔ اگرچہ آخری میچ میں انہیں ڈراپ کرنے کے بعد ٹیم نے 200 کا ہندسہ عبور کیا، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور نیوزی لینڈ رن ریٹ کی بنیاد پر آگے نکل گیا۔ شائقینِ کرکٹ اس مسلسل ناکامی پر نہ صرف مایوس ہیں بلکہ تبدیلی کی امید بھی کھو چکے ہیں۔