مشرقِ وسطیٰ تنازع: ٹیکسٹائل صنعت کو توانائی اور مال برداری کے اخراجات میں اضافے کا خدشہ
- پاکستان جیسی برآمدات پر مبنی معیشتوں کے لیے تیل، گیس اور مال برداری اخراجات میں اتار چڑھاؤ براہِ راست صنعتی مسابقت کو متاثر کرتا ہے، اپٹما
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی ایک بار پھر توانائی اور فریٹ (مال برداری) کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے، جس سے پاکستان کی برآمدی مسابقت کو نئے خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
اپٹما نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی کشیدگی ایک بار پھر توانائی اور مال برداری (شپنگ) کی منڈیوں کو غیر یقینی صورتحال کی طرف دھکیل رہی ہے۔
بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان جیسی برآمدات پر منحصر معیشتوں کے لیے تیل، گیس اور شپنگ کے اخراجات میں اتار چڑھاؤ براہِ راست صنعتی مسابقت کو متاثر کرتا ہے۔
اپٹما کے مطابق پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر عالمی سطح پر قیمتوں کے حوالے سے انتہائی حساس مارکیٹ میں کام کرتا ہے۔ اس لیے آر ایل این جی اور ایندھن کی قیمتوں، فریٹ اور انشورنس پریمیم میں معمولی سا اضافہ اور ورکنگ کیپٹل کے دباؤ بھی برآمدی منافع کو بڑے پیمانے پر متاثر کرسکتے ہیں۔
یہ انتباہ اتوار کو تہران پر اسرائیل کے نئے حملوں اور جواب میں ایران کی جانب سے میزائلوں کی بوچھاڑ کے بعد سامنے آیا ہے جو کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے ایک دن بعد ہوا ہے۔ اس واقعے نے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
دریں اثنا اپٹما نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ملکی صنعت پہلے ہی پیداواری لاگت میں اضافے کے چیلنجز سے نمٹ رہی ہے، ایسے میں پالیسیوں کا استحکام اور توانائی کی مسابقتی قیمتیں مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ بیرونی جھٹکے ہمارے قابو سے باہر ہیں، لیکن ملکی لاگت کا ڈھانچہ ہمارے اختیار میں ہے۔
اپٹما کے مطابق برآمدات اور روزگار کے تحفظ کے لیے صنعتی توانائی کے ٹیرف کو قابلِ پیش گوئی اور مسابقتی بنانا قومی ترجیح ہونی چاہیے۔