پاکستان

پُرامن احتجاج حق لیکن جلاؤ گھیراؤ کی اجازت نہیں ہو گی، وزیر داخلہ کا انتباہ

  • محسن نقوی کا اسلام آباد کے مختلف علاقوں کا دورہ، امن و امان کی صورتحال کا جائزہ
شائع March 1, 2026 اپ ڈیٹ March 1, 2026 05:50pm

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن احتجاج کی آڑ میں توڑ پھوڑ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

محسن نقوی نے یہ بات اسلام آباد کے مختلف علاقوں کے دورے کے دوران امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہی۔ ریڈ زون، ڈپلومیٹک انکلیو اور دیگر اہم مقامات کے دورے کے دوران وزیرِ داخلہ نے سیکیورٹی انتظامات کا معائنہ کیا اور ڈپلومیٹک انکلیو کے اندر فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیکیورٹی انتظامات ہر لحاظ سے جامع اور مکمل ہونے چاہئیں اور مزید کہا کہ روزمرہ کی زندگی میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) علی ناصر رضوی نے وزیرِ داخلہ کو امن و امان کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر اسلام آباد کے چیف کمشنر محمد علی رندھاوا، ڈپٹی کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اتوار کو کراچی میں مائی کولاچی روڈ پر امریکی قونصل خانے کے باہر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہونے والے پرتشدد تصادم میں کم از کم 9 افراد جاں بحق اور 12 سے زائد زخمی ہو گئے۔ یہ مظاہرے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے خلاف ہو رہے تھے، جو امریکہ اور اسرائیل کے ایک بڑے حملے کے آغاز میں شہید ہو گئے تھے۔

ریسکیو 1122 سندھ کے مطابق تصادم اس وقت شروع ہوا جب مظاہرین نے قونصل خانے کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ زخمیوں کو سول اسپتال کراچی منتقل کر دیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ 10 مظاہرین کی حالت تشویشناک ہے۔

ایک الگ بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ یہ ایران اور پاکستان کے عوام کے لیے سوگ کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان کا ہر شہری اتنا ہی غمزدہ ہے جتنا ایران کا شہری۔

وزیرِ داخلہ نے سوگواران کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا، تاہم عوام سے اپیل کی کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنا احتجاج پرامن طریقے سے ریکارڈ کرائیں۔

علاوہ ازیں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے ضوابط کی خلاف ورزی پر بھی تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ یہ ایک قدیم روایت ہے کہ ریاست یا حکومت کے سربراہان کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ شہباز شریف نے مرحوم کے لیے دعا مغفرت بھی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ ایرانی عوام کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنے کے لیے صبر اور ہمت عطا فرمائے۔