3 لاکھ سے زائد ایس ایم ایز کے لیے 882 ارب روپے کے قرضے جاری
- وزیرِ اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت 221 ارب روپے کی فنانسنگ جاری
اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ای) ڈیولپمنٹ کے حوالے سے جمعہ کو منعقدہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی (این سی سی ) کے اجلاس کو مطلع کیا گیا کہ بینکنگ سیکٹر نے 31 دسمبر 2025 تک 302,922 قرض لینے والوں (بزنسز) کو 882.4 ارب روپے کی فنانسنگ فراہم کی ہے۔
اجلاس وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری وزارتِ صنعت و پیداوار سیف انجم، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ، صوبائی وزارتوں کے نمائندوں اور بینکنگ سیکٹر کے حکام نے بھی شرکت کی۔
کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ بینکنگ سیکٹر نے 31 دسمبر 2025 تک 302,922 قرض لینے والوں کو 882.4 ارب روپے کی ایس ایم ای فنانسنگ فراہم کی جو سالانہ بنیادوں پر 36 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے جبکہ سہولت حاصل کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کی تعداد تقریباً 303,000 تک پہنچ گئی ہے جو سالانہ بنیادوں پر 65 فیصد کی نمایاں ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔
صاف اسکیم کے تحت 60 ارب روپے کی کلین لینڈنگ فراہم کی گئی جس سے 12,500 چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار مستفید ہوئے، اسی طرح وزیرِ اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت 221 ارب روپے کی فنانسنگ جاری کی گئی جس سے 461,795 ایس ایم ایز اور دیگر مستحقین کو سہولت فراہم کی گئی۔
اجلاس کے پہلے ایجنڈے کا محور سالانہ سیلز ٹرن اوور کی حد میں اضافہ کر کے ایس ایم ایز کی تعریف پر نظرثانی پر توجہ دی گئی۔ یہ تجویز پیش کی گئی کہ ’مائیکرو انٹرپرائزز‘ (خردہ کاروبار) کی تعریف سالانہ 30 ملین (3 کروڑ) روپے تک کی فروخت والے کاروبار کے طور پر کی جائے، ’اسمال انٹرپرائزز‘ (چھوٹے کاروبار) 30 ملین سے 400 ملین (40 کروڑ) روپے تک، اور ’میڈیم انٹرپرائزز‘ (درمیانے درجے کے کاروبار) 400 ملین سے 2 ارب روپے تک کے سالانہ ٹرن اوور والے کاروبار ہوں گے۔
ہارون اختر خان نے بیان کیا کہ ایس ایم ایز کی تعریف اور دائرہ کار پر نظرثانی وقت کی اہم ضرورت ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی ادارے اس اپ ڈیٹ شدہ فریم ورک کو اپنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت اس شعبے کے فروغ اور استحکام کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید نوٹ کیا کہ ایس ایم ای کی تعریف اور دائرہ کار پر نظرثانی کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے کا دوسرا اہم نکتہ ’نیشنل ایس ایم ای پالیسی 2021‘ پر عملدرآمد تھا۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ملک بھر میں اس پالیسی کا مؤثر نفاذ خردہ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو بااختیار بنائے گا اور اقتصادی ترقی میں ان کے کردار کو مزید بہتر کرے گا۔ سمیڈا اور صوبائی حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ باقاعدگی سے اس پر عملدرآمد اور پیش رفت کی رپورٹنگ کو یقینی بنائیں۔ فنانس تک رسائی کو ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے کلیدی محرک قرار دیتے ہوئے، ہارون اختر خان نے کہا کہ گلگت بلتستان سے لے کر آزاد جموں و کشمیر اور بلوچستان تک، تمام بینک چھوٹے کاروبار کے لیے قرضوں کی فراہمی میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی پالیسی میں بھی قرضوں تک آسان رسائی اور ٹیکس ریلیف کے اقدامات پر توجہ دی گئی ہے تاکہ اس شعبے کو مزید سہارا دیا جا سکے۔ معاونِ خصوصی نے ایس ایم ایز کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ بانڈز اور مصنوعی ذہانت کی تربیت کے اقدامات کو حوصلہ افزا قرار دیا۔ انہوں نے چھوٹے کاروباروں کو جدید مہارتوں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تربیت سے آراستہ کرنے کی سمیڈا کی کوششوں کو اس شعبے میں مسابقت اور جدت طرازی کو بڑھانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026