کاروبار اور معیشت

ٹی او آر 2013 میں ترمیم کراچی کی شہر بھر میں متحد نمائندگی یقینی بنائے گی، کراچی چیمبر

  • ٹی او آر 2013 میں ترمیم کا مقصد کسی بھی طرح ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ 2013 کو کمزور کرنا نہیں، ریحان حنیف
شائع اپ ڈیٹ

کراچی چیمبر کے صدر محمد ریحان حنیف نے ٹریڈ آرگنائزیشنز رولز 2013 میں مجوزہ ترمیم کے حوالے سے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم محض وضاحت کے لیے ہے اور اس کا مقصد صرف کراچی کی شہر بھر کی یکساں نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔

پاکستان بھر کے تمام چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو بھیجے گئے اپنے مراسلے میں صدر کے سی سی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ ترمیم کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط فہمیاں اور غلط بیانی فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ادارہ جاتی وضاحت اور تاجر برادری کے قومی کاروباری اتحاد کو برقرار رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کا مقصد کسی بھی طرح ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ 2013 کو کمزور کرنا، اس پر فوقیت حاصل کرنا یا اسے غیرمؤثر بنانا نہیں ہے بلکہ اس ساختی مسئلے کو درست کرنے کے لیے ہے جو کراچی کی منفرد انتظامی تقسیم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ 2013 کے تحت ہر ضلع میں ایک چیمبر قائم کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان بھر میں اس شق سے کبھی کوئی پیچیدگیاں نہیں ہوئیں کیونکہ لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، کوئٹہ، فیصل آباد اور پشاور جیسے بڑے شہروں کی انتظامی تقسیم ایک ہی ضلع میں ہے لہٰذا تمام شہروں کی نمائندگی ایک ہی چیمبر کے ذریعے کی جاتی ہے مگرکراچی کی صورتحال اس سے مختلف ہےکراچی واحد میٹروپولیٹن شہر ہے جسے انتظامی سہولت کے لیے 7 اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے۔

ریحان حنیف نے کہا کہ یہ انتظامی تقسیم کبھی بھی شہر کی تجارتی شناخت یا معاشی نمائندگی کو تقسیم کرنے کے لیے نہیں کی گئی تھی اس کے باوجود ایکٹ کے ضلع پر مبنی شق کو کراچی پر جوں کا توں لاگو کرنے سے ایک ہی شہر میں متعدد چیمبرز بننے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے جو پاکستان کے کسی اور شہر میں پہلے نہیں ہواصدر کے سی سی آئی نے کہا کہ کراچی کو بھی دیگر بڑے شہروں کی طرح ایک ہی متحد ادارے کے ذریعے نمائندگی ملنی چاہیے۔ مجوزہ ترمیم کا مقصد صرف یہ ہے کہ کراچی کے ساتھ بھی وہی برتاؤ ہو جو دیگر میٹروپولیٹن شہروں کے ساتھ ہوتا ہے جہاں ایک ہی چیمبر پورے شہر کی نمائندگی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ یہ ترمیم پاکستان کے کسی اور شہر کے کسی چیمبر، ٹریڈ باڈی یا ایسوسی ایشن کو متاثر نہیں کرتی اور نہ ہی یہ کسی ادارے کی قانونی حیثیت، دائرہ کار یا عملی اختیارات میں کوئی تبدیلی لاتی ہےیہ ترمیم صرف کراچی تک محدود ہے تاکہ ملک کے سب سے بڑے معاشی مرکز کی تجارتی و صنعتی برادری کی نمائندگی ایک ہی ادارے کے ذریعے ہو جوکہ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ہے جو 1959سے تاجربرادری کی خدمت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر ہمیشہ سے پاکستان بھر کے چیمبرز کے ساتھ خوشگوار، قریبی اور تعمیری تعلقات رکھتا ہے اور تمام چیمبرز بجٹ تجاویز اور قومی معاشی مسائل پر مشترکہ آواز اٹھانے میں ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔کے سی سی آئی کبھی ایسا کوئی بھی مؤقف اختیار نہیں کرے گاجو اپنے ساتھی چیمبرز کو نقصان پہنچائے جن کے ساتھ اس کے طویل المدت اور عزت و احترام پر مبنی تعلقات ہیں۔

انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ یہ ترمیم کراچی تک محدود ہے اور یہ پاکستان کے کسی دوسرے شہر کی چیمبر کو متاثر نہیں کرے گی۔کسی بھی مخالف تاثر کو وہ عناصر پیدا کر رہے ہیں جو کراچی کی تاجر برادری کی یکجہتی کو نہیں دیکھنا چاہتے۔

ریحان حنیف نے قومی مفاد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی ہم آہنگی، نمائندگی کی وضاحت اور متحدہ مؤقف کی اہمیت اس وقت زیادہ ہے جب پاکستان کی تاجر برادری کو سنگین اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے تجارتی مرکز میں نمائندگی کی تقسیم ادارہ جاتی جمہوریت کو مضبوط نہیں کرےگی بلکہ اجتماعی اثر کو کمزور اور غیر ضروری ابہام پیدا کرے گی۔

انہوں نے اعتمادکے ساتھ کہاکہ ملک بھر کی تاجر برادری ایک شہر، ایک چیمبرکے اصول کی حمایت کرے گی تاکہ یکجہتی، برابری اورمؤثرنمائندگی کو برقرار رکھا جا سکے۔