ایس ای سی پی نے شریعت معیار سخت کر دیے، اسلامک اسکریننگ عالمی بینچ مارکس سے ہم آہنگ
- ان کا مقصد شریعت کے مطابق کیپیٹل مارکیٹ انسٹرومنٹس پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانا ہے، ایس ای سی پی
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے پی ایس ایکس-کے ایم آئی آل شیئر انڈیکس کے لیے شریعت اسکریننگ کے معیارات مزید سخت کر دیے ہیں اور غیر مطابقت رکھنے والے قرض کا کل اثاثوں سے تناسب 37 فیصد سے کم کر کے 33 فیصد کر دیا ہے۔
ایس ای سی پی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ یہ ترامیم بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ ہیں اور ان کا مقصد شریعت کے مطابق کیپیٹل مارکیٹ انسٹرومنٹس پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانا ہے۔
نظرثانی شدہ معیار کے تحت شریعت کمپلائنس ریٹنگ کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت اہل کمپنیوں کو تین، چار یا پانچ اسٹار ریٹنگ دی جائے گی تاکہ شفافیت بڑھے اور سرمایہ کار کمپلائنس کی سطح کا بہتر اندازہ لگا سکیں۔
مزید برآں، پی ایس ایکس-کے ایم آئی آل شیئر انڈیکس کے لیے شریعت کے مطابق کمپنیوں کی فہرست جاری کی جائے گی جس پر شواہد کی بنیاد پر نظرثانی کی درخواست دینے کے لیے پانچ ورکنگ ڈیز کی مہلت ہو گی۔
نئی لسٹ ہونے والی کمپنیوں کی عبوری شمولیت کے لیے بھی ایک طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے، جو اسکریننگ اور کے ایم آئی انڈیکس کمیٹی کی منظوری سے مشروط ہو گا۔
ایس ای سی پی نے پی ایس ایکس کو مزید بہتری پر غور کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، جن میں غیر مطابقت رکھنے والی سرمایہ کاری کا کل اثاثوں سے تناسب 33 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کرنا، سہ ماہی بنیادوں پر انڈیکس اپڈیٹس اور ڈیٹا کلیکشن کو خودکار بنانا شامل ہے۔
شریعہ گورننس ریگولیشنز 2023 کے تحت شریعت کے مطابق سیکیورٹیز کی اسکریننگ کے طریقہ کار کے لیے ایس ای سی پی کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اسی سلسلے میں پی ایس ایکس، المیزان انویسٹمنٹ مینجمنٹ لمیٹڈ اور میزان بینک لمیٹڈ نے مشترکہ طور پر پی ایس ایکس-کے ایم آئی آل شیئر انڈیکس کا طریقہ کار پیش کیا تھا جسے مئی 2024 میں منظوری دی گئی۔
یہ فیصلہ پوسٹ 2027 فنانشل سیکٹر اسٹریٹیجی کمیٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کیا گیا جس کی صدارت فنانس سیکریٹری نے کی۔ اجلاس میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق اقدامات کی رفتار تیز کرنے پر زور دیا گیا اور پاکستان کے مالیاتی نظام کو سود سے پاک فریم ورک میں منتقل کرنے کی پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔
ایس ای سی پی کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے زیر نگرانی شعبوں کو شریعت کے مطابق ماڈلز میں منتقل کرنے کے لیے جامع منصوبہ تیار کرے اور 2027 کے بعد کی حکمت عملی وضع کرے تاکہ اس منتقلی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
بیان کے مطابق اسلامی انڈیکسز میں بہتری ایس ای سی پی کے اسٹریٹیجک ایکشن پلان 2024-26 کا حصہ ہے جس کا مقصد تمام ریگولیٹڈ شعبوں میں اسلامی فنانس کو فروغ دینا ہے۔
یہ اقدامات وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے اور آئین کی شق 38(1)(f) سے متعلق 26ویں آئینی ترمیم کے تحت جاری عمل درآمد کا حصہ ہیں، جس کے مطابق دسمبر 2027 تک مرحلہ وار مالیاتی نظام سے ربا کا خاتمہ کیا جانا ہے۔
ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ نظرثانی شدہ فریم ورک اسلامی کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی میں معاون ثابت ہو گا، باخبر سرمایہ کاری کے فیصلوں کو فروغ دے گا اور لسٹڈ کمپنیوں کو شریعت کے مطابق کیپیٹل اسٹرکچر اختیار کرنے کی ترغیب دے گا۔