مارکٹس

امریکہ اور ایران کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں تقریباً 7 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

  • برینٹ کرُوڈ فیوچرز عالمی معیاری وقت کے مطابق 10 بج کر 37 منٹ پر 71.49 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہے، جبکہ امریکی خام تیل کے فیوچرز 11 سینٹ یا 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 66.42 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے
  • برینٹ خام تیل جولائی کے آخر کے بعد سب سے بلند سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے
شائع February 24, 2026 اپ ڈیٹ February 24, 2026 06:16pm

منگل کو تیل کی قیمتیں سات ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہیں، کیونکہ تاجروں نے کسی بھی فوجی کشیدگی سے رسد کے ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان نیوکلیئر مذاکرات کا نیا دور قریب تھا۔

برینٹ کرُوڈ فیوچرز عالمی معیاری وقت کے مطابق 10 بج کر 37 منٹ پر 71.49 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہے جبکہ امریکی خام تیل کے فیوچرز 11 سینٹ یا 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 66.42 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔

برینٹ جولائی کے آخر کے بعد سب سے بلند سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل اگست کے آغاز کے بعد اپنی سب سے مضبوط سطح پر ہے۔

امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا نیوکلیئر پروگرام ترک کرے، تاہم ایران نے سختی سے انکار کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔

ایک سینئر امریکی محکمہِ خارجہ کے اہلکار نے پیر کو بتایا کہ بیروت میں امریکی سفارتخانے سے غیر ضروری حکومتی اہلکار اور ان کے اہلِ خانہ نکال لیے جا رہے ہیں، کیونکہ ایران کے ساتھ ممکنہ فوجی تصادم کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ اگر ایران معاہدہ نہیں کرتا تو یہ اس کے لیے ”بہت برا دن“ ہوگا۔

ایس ای بی کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ ”خطرہ یہ نہیں کہ جنگ لازمی ہو، بلکہ یہ کہ کشیدگی بڑھنے کے بعد اس کو کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے جب پوزیشننگ اور توقعات بلند ہو جائیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ” یہ وہ ناپسندیدہ صورتحال ہے جو اس وقت تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی پریمیم کی بنیاد بنی ہوئی ہے۔“

تجارتی پالیسی کے حوالے سے، ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ان ممالک کو خبردار کیا کہ وہ حال ہی میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تجارتی معاہدوں سے پیچھے نہ ہٹیں، کیونکہ سپریم کورٹ نے ان کے ہنگامی محصولاتی اقدامات کو کالعدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ممالک معاہدے کی خلاف ورزی کریں تو وہ مختلف تجارتی قوانین کے تحت زیادہ اعلیٰ محصولات عائد کریں گے۔

ٹرمپ نے ہفتے کو اعلان کیا کہ وہ تمام ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر عارضی ٹیرف 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کریں گے، جو قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ سطح ہے۔