دنیا

برطانوی پولیس نے شاہ چارلس کے بھائی پرنس اینڈریو کو گرفتار کر لیا، بی بی سی کی رپورٹ

  • سابق شہزادے نے ایپسٹین کیس کے حوالے سے کسی بھی قسم کے غیرقانونی الزامات کی تردید کی ہے
شائع February 19, 2026 اپ ڈیٹ February 19, 2026 05:00pm

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق شاہ چارلس کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو جمعرات کے روز عوامی عہدے کے غلط استعمال کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان پر الزامات ہیں کہ انہوں نے جیفری ایپسٹین کو حکومت کی خفیہ دستاویزات بھیجی تھیں۔

ٹیمز ویلی پولیس نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ افسران ان الزامات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ماؤنٹ بیٹن ونڈسر نے آنجہانی سزا یافتہ جنسی مجرم (ایپسٹین) کو دستاویزات فراہم کی تھیں۔ یہ الزامات امریکی حکومت کی جانب سے جاری کردہ فائلوں کی بنیاد پر سامنے آئے ہیں۔

ٹیمز ویلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ پولیس نے عوامی عہدے کے غلط استعمال کے جرم کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

نورفولک سے تعلق رکھنے والے ایک ساٹھ سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جو اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔ قومی پالیسی کے مطابق ہم گرفتار شخص کا نام ظاہر نہیں کریں گے۔

اس سے قبل اخبارات نے رپورٹ کیا تھا کہ چھ بغیر نشان والی پولیس گاڑیاں اور تقریباً آٹھ سادہ لباس اہلکار مشرقی انگلینڈ میں سینڈرنگھم اسٹیٹ کے ووڈ فارم پہنچے، جہاں ماؤنٹ بیٹن ونڈسر اب مقیم ہیں۔ جمعرات کو ان کی 66 ویں سالگرہ بھی ہے۔

سابق شہزادے، جو آنجہانی ملکہ الزبتھ کے دوسرے بیٹے ہیں نے ہمیشہ ایپسٹین کے حوالے سے کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا مجرمانہ فعل کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں ایپسٹین کے ساتھ اپنی دوستی پر افسوس ہے۔ تاہم دستاویزات کے حالیہ اخراج کے بعد سے انہوں نے تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ بکنگھم پیلس کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

اینٹی مونارکی (شاہت مخالف) مہم چلانے والے گروپ ریپبلک نے ایپسٹین سے متعلق 30 لاکھ سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات کے اجراء کے بعد اینڈریو کی رپورٹ پولیس کو دی تھی۔ ان فائلوں سے اشارہ ملتا ہے کہ ماؤنٹ بیٹن ونڈسر نے 2010 میں ویتنام، سنگاپور اور دیگر مقامات کے بارے میں رپورٹس ایپسٹین کو بھیجی تھیں جو انہوں نے اپنے سرکاری دوروں کے دوران تیار کی تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عوامی عہدے کے غلط استعمال کے الزامات، جو کہ ایک کامن لا جرم ہے اور تحریری قانون کے دائرے میں نہیں آتا ہے خاصی پیچیدگیوں کا حامل ہے۔