بھارت میں سرمایہ کاری کا نیا مرکز کرکٹ بن گیا
- دنیا کی امیر ترین کرکٹ لیگ آئی پی ایل کو بالی ووڈ اسٹارز، بھارتی ارب پتیوں اور مشروبات بنانے والی کمپنی ڈیاجیو جیسے بڑے سرمایہ کاروں کی پشت پناہی حاصل ہے
عالمی نجی ایکویٹی فرمز جیسے بلیک اسٹون اور کے کے آر کے لیے بھارت میں سرمایہ کاری کا نیا مرکز کرکٹ بن گیا ہے۔ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل)جو دنیا کی امیر ترین کرکٹ لیگ ہےاب صرف بالی ووڈ ستاروں اور بھارتی ارب پتیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اپنی بڑھتی ہوئی آمدنی اور عالمی مقبولیت کی وجہ سے بڑے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بھی اپنی طرف راغب کر رہی ہے۔
امریکی بینک ہولی ہان لوکی کے مطابق آئی پی ایل کی کاروباری مالیت گزشتہ سال ریکارڈ 18.5 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اگرچہ یہ امریکی فٹ بال لیگ (این ایف ایل) سے کم ہے لیکن فی میچ مالیت کے اعتبار سے یہ این ایف ایل کے بعد دنیا کی دوسری سب سے قیمتی اسپورٹس لیگ بن چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق بلیک اسٹون اور کے کے آر رائل چیلنجرز بنگلورو (آرسی بی) اور راجستھان رائلز میں حصص خریدنے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
اس عالمی دلچسپی کی بڑی وجہ یورپی فرم سی وی سی (سی وی سی) کی گجرات ٹائٹنز میں کامیاب سرمایہ کاری ہے، جس نے صرف چار سالوں میں ڈالر کی صورت میں 350 فیصد سے زائد منافع کمایا۔ آئی پی ایل کا ماڈل سرمایہ کاروں کے لیے اس لیے پرکشش ہے کیونکہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) میڈیا رائٹس اور اسپانسر شپ سے ہونے والی آمدنی کا نصف حصہ تمام ٹیموں میں برابر تقسیم کرتا ہے۔ ہر ٹیم کو سالانہ تقریباً 55 ملین ڈالر اس پول سے ملتے ہیں۔
اگرچہ کچھ خطرات موجود ہیں، جیسے ڈزنی اور ریلائنس کے انضمام سے مستقبل میں میڈیا رائٹس کی قیمت پر اثر پڑ سکتا ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ آئی پی ایل کی قدر میں مسلسل اضافہ ہوگا۔ کولکتہ نائٹ رائیڈرز جیسے ٹیموں کے منافع میں حالیہ برسوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آئی پی ایل اب ایک عالمی منافع بخش اثاثہ بن چکا ہے۔