پاکستان

کراچی روہڑی ایم ایل ون منصوبہ: 2 ارب ڈالر کی فنانسنگ کیلئے ایشیائی بینک سے بات چیت اہم مرحلے میں

  • چین میں پاکستانی سفارت خانے نے ایم ایل-ون منصوبے کے فنانسنگ پلان سے متعلق تفصیلی معلومات طلب کی ہیں
شائع February 16, 2026 اپ ڈیٹ February 16, 2026 08:56am

ایشیائی ترقیاتی بینک(اے ڈی بی) اور وزارتِ ریلوے کے درمیان ایم ایل-ون ریلوے منصوبے کے کراچی-روہڑی سیکشن کی مالی معاونت کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر کے قرض پر اہم مراحلے میں بات چیت جاری ہے۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس پیش رفت سے حالیہ اجلاس میں آگاہ کیا گیا جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کی، جہاں سی پیک منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

فورم کو بتایا گیا کہ چین میں پاکستانی سفارت خانے نے ایم ایل-ون منصوبے کے فنانسنگ پلان سے متعلق تفصیلی معلومات طلب کی ہیں، خصوصاً تیسرے فریق کی شمولیت، بشمول ایشیائی ترقیاتی بینک اور مختلف حصوں کے لیے چینی فنانسنگ کی ضروریات کے بارے میں۔ یہ معلومات چینی حکام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی تاکہ مزید پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔

وزارتِ ریلوے نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی-روہڑی سیکشن کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس حصے کی مجموعی لاگت تقریباً 2 ارب ڈالر لگائی گئی ہے، جس میں سے تقریباً 1.2 ارب ڈالر ایشین ڈیولپمنٹ بینک فراہم کرے گا۔ باقی رقم کے انتظام کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور یورپی انویسٹمنٹ بینک کے ساتھ بھی بات چیت کر رہا ہے۔

اجلاس کے چیئرمین نے وزارتِ ریلوے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ روہڑی سے آگے کے حصوں کے لیے موجودہ پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مبنی ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے، خصوصاً چینی فنانسنگ کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ مزید ہدایت کی گئی کہ یہ معلومات جلد از جلد بیجنگ میں پاکستان کے مشن کو فراہم کی جائیں تاکہ چینی حکام سے مشاورت کی جا سکے۔

اجلاس کے دوران نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے نمائندوں نے سی پیک ڈیش بورڈ کی تیاری پر پریزنٹیشن دی۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ وزارتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے فوکل پرسنز عمل درآمد سے متعلق مسائل کو ڈیجیٹل طور پر رپورٹ کر سکیں گے اور ہدایات، فیصلوں، ٹائم لائنز اور فالو اپ اقدامات کا ریکارڈ محفوظ رکھا جا سکے گا۔

یہ ڈیش بورڈ سی پیک کی مجموعی پیش رفت کا جامع جائزہ بھی فراہم کرے گا، جس میں مکمل شدہ منصوبے، جاری اقدامات اور مختلف مراحل میں موجود منصوبے شامل ہوں گے۔

وفاقی وزیر نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعظم کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور زور دیا کہ سی پیک 2.0 کے توسیع شدہ فریم ورک کے مؤثر نفاذ کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم ناگزیر ہے۔ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو ہدایت دی گئی کہ جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی، جوائنٹ ورکنگ گروپس اور سی پیک-پی آر ایم نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاسوں کے منٹس اور فیصلوں کو بھی ڈیش بورڈ میں شامل کیا جائے، ساتھ ہی وزارت وار پیش رفت کے جائزے کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔

مزید ہدایت کی گئی کہ سی پیک ڈیش بورڈ کو 15 دن کے اندر فعال بنا دیا جائے۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ ڈیٹا سینٹر منصوبہ فوجی فاؤنڈیشن کے تحت تیار کیا جا رہا ہے، اور وزیراعظم کے ستمبر 2025 میں دورۂ چین کے دوران زیڈ ٹی ای کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ زیڈ ٹی ای اس وقت منصوبے کی سائٹ پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کے رہائش اور کھانے کے اخراجات برداشت کر رہی ہے۔

منصوبے کی اہمیت اور سخت ٹائم لائنز کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پنجاب سے درخواست کی گئی ہے کہ اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کے سیکیورٹی چارجز معاف کیے جائیں۔ حکام نے نشاندہی کی کہ وزارتِ داخلہ کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت غیر سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے غیر ملکیوں کی سیکیورٹی کے اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کیے جاتے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026