پاکستان

وزیراعظم نے 38 ارب روپے کے رمضان پیکج کا اعلان کردیا، 12.1 ملین خاندان مستفید ہوں گے

  • فنڈز براہِ راست مستحقین کے ڈیجیٹل بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے جائیں گے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور امتیاز ختم ہو، شہباز شریف
شائع February 15, 2026 اپ ڈیٹ February 15, 2026 10:29am

وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتہ کے روز ملک بھر میں 12.1 ملین مستحق خاندانوں، بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لیے 38 ارب روپے کا رمضان ریلیف پیکج متعارف کروا دیا۔

وزیراعظم کے رمضان پیکج 2026 کی لانچ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ فنڈز براہِ راست مستحقین کے ڈیجیٹل بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے جائیں گے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور امتیاز ختم ہو۔

وزیراعظم نے کہا جی کل 38 ارب روپے 12.1 ملین خاندانوں میں بغیر کسی امتیاز کے تقسیم کیے جائیں گے۔ ہر مستحق خاندان کو 13,000 روپے ڈیجیٹل والیٹ یا بینک ٹرانسفر کے ذریعے دیے جائیں گے، چاہے سیاسی وابستگی یا ذاتی رائے کچھ بھی ہو۔

کل مختص رقم میں سے 10 ارب روپے ان خاندانوں کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں جو پہلے ہی حکومت کے کفالت پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں، جبکہ 28 ارب روپے ان افراد میں تقسیم کیے جائیں گے جو دیگر امدادی اسکیموں سے مستفید نہیں ہیں۔

وزیراعظم نے اسے پیمانے اور عملی پیچیدگی کے لحاظ سے سب سے بڑا وفاقی رمضان اقدام قرار دیا اور کہا کہ ملک بھر میں بروقت اور باعزت امداد کی فراہمی کے لیے وسیع پیمانے پر رابطہ کاری کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور نفاذ میں درپیش خلاؤں کو دور کیا جائے گا۔ اپنے خطاب کے آغاز میں انہوں نے گزشتہ رمضان ریلیف اسکیموں کی کمیوں کی طرف اشارہ کیا، جن میں ناقص معیار کے خوراک کا سامان اور یوٹیلٹی اسٹورز میں طویل قطاروں کی شکایات شامل تھیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک تکلیف دہ منظر تھا، اور اس طرح کے انتظامات نے مستحق شہریوں کی عزت کو متاثر کیا۔ پچھلا نظام ختم کر کے براہِ راست نقد رقم کی منتقلی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرایا گیا، جسے انہوں نے خراب اور بدعنوان طریقہ کار کو ختم کرنے اور ایک مؤثر اور شفاف نظام قائم کرنے کا فیصلہ کن اقدام قرار دیا۔

وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نفاذ میں چیلنجز بھی پیش آئے، جن میں مکمل کیش لیس نہ ہونے والی معیشت میں تجارتی بینکوں کا تعاون حاصل کرنا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ تکنیکی اور ضابطہ جاتی مسائل کو حل کرنا شامل تھا۔

انہوں نے کہا اس سال یہی تجربہ بہتر کارکردگی اور واضح کلیدی کارکردگی کے اشاریوں کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے خود نظام کی نگرانی کی تاکہ کسی بھی رکاوٹ کو دور کیا جا سکے اور تیسرے فریق کی تصدیق سے اس کے شفاف ہونے کی تصدیق ہوئی۔

تقریب میں بٹن دبانے کے ساتھ ہی ادائیگی کے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ وزیراعظم نے بین الاقوامی شراکت داروں کا بھی شکریہ ادا کیا اور اس اقدام کو اجتماعی کوشش قرار دیا۔

وزیر موصوف غربت میں کمی، سماجی تحفظ اور انسانیت کی خدمت کو موجودہ حکومت کی نمایاں خصوصیات قرار دیا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے وفاقی سیکرٹری عامر علی احمد نے کہا کہ وزیراعظم کا وژن معاشرے کے مستحق طبقے کے لیے شفاف ادائیگی کا نظام قائم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال کا 5,000 روپے کا پیکج اس سال 13,000 روپے کر دیا گیا ہے اور دوبارہ تیسرے فریق کی تصدیق سے گزرا جائے گا۔ پروگرام کی تفصیلات ہیلپ لائن 9999 کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026